Home / اردو ادب / شاعری

شاعری

اِک موجہءصہبائے جُنوں تیز بہت ہے​

اِک موجہءصہبائے جُنوں تیز بہت ہے​ اِک سانس کا شیشہ ہے کہ لبریز بہت ہے​ ​ کُچھ دِل کا لہو پی کے بھی فصلیں ہُوئیں شاداب​ کُچھ یوں بھی زمیں گاؤں کی زرخیز بہت ہے ​ پلکوں پہ چراغوں کو سنبھالے ہوئے رکھنا​ اِس ہِجر کے موسم کی ہوا تیز بہت ہے​ ​ بولے تو سہی ، جھوٹ ہی بولے وہ بَلا سے​ ظالم کا لب و لہجہ دل آویز بہت ہے​ ​ کیا اُس کے خدوخال کُھلیں اپنی غزل …

Read More »

چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دِن

چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دِن ’’دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دِن‘‘ وہ شوقِ بے پناہ میں الفاظ کی تلاش اظہار کی زبان میں لکنت کے رات دِن وہ ابتدائے عشق وہ آغازِ شاعری وہ دشتِ جاں میں پہلی مسافت کے رات دِن سودائے آذری میں ہوئے صنم گری وہ بت پرستیوں میں عبادت کے رات دِن اِک سادہ دِل ، دیارِ کرشمہ گراں میں گم اِک قریۂ طلسم میں حیرت کے رات دِن …

Read More »

ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں

ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں میرے نغمات کو اندازِ نوا یاد نہیں ہم نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو ہم سے کہتے ہیں وہی عہدِ وفا یاد نہیں زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں میں نے پلکوں سے درِ یار پہ دستک دی ہے میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں کیسے بھر آئیں سرِ شام کسی کی آنکھیں کیسے تھرائی ستاروں …

Read More »

پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے

پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے جو مشکل اب ہے یا رب پھر وہی مشکل نہ بن جائے نہ کر دیں مجھ کو مجبور نوا فردوس میں حوریں مرا سوز دروں پھر گرمی محفل نہ بن جائے کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو کھٹک سی ہے جو سینے میں غم منزل نہ بن جائے بنایا عشق نے دریائے ناپیدا کراں مجھ کو یہ میری خود نگہداری مرا ساحل نہ بن جائے کہیں …

Read More »

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی …

Read More »

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا ۔ جون ایلیا

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا ذات در ذات ہم سفر رہ کر اجنبی، اجنبی کو بھول گیا صبح تک وجہِ جانکنی تھی جو بات میں اسے شام ہی کو بھول گیا عہدِ وابستگی گزار کے میں وجہ وابستگی کو بھول گیا سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں بحث کیا تھی، اسی کو بھول گیا کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر ایک میں، ہر کسی کو بھول گیا سب …

Read More »

میں ہوش میں تھا تو پھر اس پہ مر گیا کیسے ۔ کامل چاند پوری

میں ہوش میں تھا تو پھر اس پہ مر گیا کیسے یہ زہر میرے لہو میں اتر گیا کیسے کچھ اس کے دل میں لگاوٹ ضرور تھی ورنہ وہ میرا ہاتھ دبا کر گزر گیا کیسے ضرور اس کی توجہ کے رہبری ہو گی نشے میں تھا تو میں اپنے ہی گھر گیا کیسے جسے بھلائے کئی سال ہو گئے کامل میں آج اس کی گلی سے گزر گیا کیسے کامل چاند پوری

Read More »

شام غم کی سحر نہیں ہوتی (ابن انشا)

شام غم کی سحر نہیں ہوتی یا ہمیں کو خبر نہیں ہوتی ہم نے سب دکھ جہاں کے دیکھے ہیں بیکلی اس قدر نہیں ہوتی نالہ یوں نارسا نہیں رہتا آہ یوں بے اثر نہیں ہوتی چاند ہے کہکشاں ہے تارے ہیں کوئی شے نامہ بر نہیں ہوتی ایک جاں سوز و نامراد خلش اس طرف ہے ادھر نہیں ہوتی دوستو عشق ہے خطا لیکن کیا خطا درگزر نہیں ہوتی رات آ کر گزر بھی جاتی ہے اک ہماری سحر …

Read More »

اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا (جون ایلیا)

اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا اُس جسم کی میں جاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا تُو آج میرے گھر میں جو مہماں ہے، عید ہے تُو گھر کا میزبان نہ ہوا، کچھ نہیں ہوا کھولی تو ہے زبان مگر اس کی کیا بساط میں زہر کی دکاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کیا ایک کاروبار تھا وہ ربطِ جسم و جاں کوئی بھی رائیگاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کتنا جلا ہوا ہوں بس اب کیا …

Read More »

صحرا جو پُکاریں بھی تو سُن کر نہیں آتے (محسن نقوی)

صحرا جو پُکاریں بھی تو سُن کر نہیں آتے اب اہلِ جُنوں شہر سے باہر نہیں آتے وہ کال پڑا ہے تجارت گاہِ دل میں دستاریں تو میسر ہیں مگر سَر نہیں آتے وہ لوگ ہی قدموں سے زمیں چھین رہے ہیں جو لوگ میرے قد کے بھی برابر نہیں آتے اِک تم کہ تمہارے لیے میں بھی ؛ میری جان بھی اِک میں کہ مجھے تم بھی میسر نہیں آتے اِس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و …

Read More »