Home / اردو ادب / شاعری / ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻝ ﮐﯽ ہتھیلی ﭘﮧ ﮨﮯ ﺻﺤﺮﺍ ﺭﮐﮭﮯ (احمد فراز)

ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻝ ﮐﯽ ہتھیلی ﭘﮧ ﮨﮯ ﺻﺤﺮﺍ ﺭﮐﮭﮯ (احمد فراز)

ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے
کس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھے

عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا
اے میری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے

ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام تیرا
کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے

دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے
جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے

یہ قناعت ہے قطاعت ہے کہ چاہت ہے بھلا
ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے

 

احمد فراز

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *