Home / اردو ادب / شاعری / ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے (نوشی گیلانی)

ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے (نوشی گیلانی)

ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے
تنہائی کے صحرا میں اگر تو نکل آئے

کیسا لگے اس بار اگر موسم گل میں
تتلی کا بدن اوڑھ کے جگنو نکل آئے

پھر دن تری یادوں کی منڈیروں پہ گزارا
پھر شام ہوئی آنکھ میں آنسو نکل آئے

بے چین کیے رہتا ہے دھڑکا یہی جی کو
تجھ میں نہ زمانے کی کوئی خو نکل آئے

پھر دل نے کیا ترک تعلق کا ارادہ
پھر تجھ سے ملاقات کے پہلو نکل آئے

نوشی گیلانی

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *