Home / فلکیات / ہائیپرون: نوزائیدہ کہکشاؤں کا سب سے بڑا سُپر کلسٹر 

ہائیپرون: نوزائیدہ کہکشاؤں کا سب سے بڑا سُپر کلسٹر 

ابتدائی کائینات میں کہکشائیں کیسے بنیں تھیں؟ اس سوال کے جواب کی تلاش میں فلکیات دانوں نے آسمان کے ایک تاریک حصے کا سروے کیا جس کے لئے انہوں نے ساؤتھ امریکی مُلک چیلے میں موجود بہت بڑی دربینوں کے ایک سلسلے کو استعمال کیا اور دور دارز کی اُن کہکشاؤں کو گنا جو کائینات کے آغاز میں وجود میں آئیں تھیں۔

اس تصویر میں پھیلی دور دراز کی (لگ بھگ اڑھائی ریڈشفٹ کی دوری پر) کہکشاؤں کے تجزئیے سے ایک کہکشاؤں کا بہت بڑا نظام سامنے آیا جو کہ تین سو ملین نوری سال تک پھیلا ہوا ھے اور اس میں ہماری کہکشاں ملکی وے سے پانچ ہزار گُنا زیادہ ماس موجود ھے۔ ہیپرون نامی یہ نوزائیدہ سُپر کلسٹر اب تک کے دریافت ہونے والے سُپر کلسٹروں میں سے سب سے بڑا ھے۔

ایک پروٹو سُپرکلسٹر نوعمر کہکشاؤں کا ایک ایسا مجموعہ ہوتا ھے جو کہ گریوٹی کی فورس کے تحت ٹکرا کے ایک سُپر کلسٹر بنانے کے عمل میں ہوتا ھے۔ یہ سُپر کلسٹر خود بہت ساری کہکشاؤں کے جھرمٹوں سے مل کر بنتا ھے، ہر کہکشائی جھرمٹ میں کئی سو کہکشائیں ہوتی ہیں، ہر کہکشاں میں خود کئی سو ارب ستارے ہوتے ہیں۔

اس نُمایاں تصویر میں بہت زیادہ ماس والی کہکشاؤں کو سفید دھبوں سے دکھایا گیا ھے اور نیلگوں رنگ میں وہ علاقے دکھائے گئے ہیں جن میں بہت بڑی مقدار میں چھوٹی کہکشائیں ہیں۔ اس طرح کے بڑے بڑے ابتدائی دور کی کہکشاؤں کے جھرمٹوں کی شناخت اور تفہیم سے انسانیت کے کائینات کے سمجھنے کے عمل میں مدد ملتی ھے۔

 

کہکشاؤں کا جھرمٹ کیا ہوتا ھے؟
کہکشائیں اکیلی نہیں ہوتی بلکہ کچھ سہلیاں مل کے ایک جھرمٹ سا بنا کے رہتی ہیں کسی ایک جھرمٹ کی تمام کہکشائیں باہمی تجاذبی فورس کے زیرِ اثر کائینات میں ایک وجود کے طور پر رہتی ہیں کہکشاؤں کے اس جھرمٹ کو کلسٹر کہتے ہیں۔ کسی ایک کلسٹر میں کئی سو سے لیکر کئی ہزار کہکشائیں ہوسکتی ہیں۔ ہماری کہکشاں جس کلسٹر (جُھرمٹ) کا حصہ ہے اُس کا بہت ہی غیر رومانوی نام ھے “لوکل گروپ” جس میں کُل ملا کے کوئی چون یا پچپن کہکشائیں ہیں جن میں سے انڈرومیڈا سب سے بڑی اور ہماری ملکی وے دوسری بڑی کہکشاں ھے۔

اس تناظر میں ایک وضاحت کردوں کہ جب ماہرین کائینات کے پھیلنے کا کہتے ہیں کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جارہی ہیں تو مُراد اُن کی یہ ہوتی ہے کہ کہکشاؤں کے جھرمٹ ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں۔ کائینات کے پھیلنے کی دریافت کے وقت کہکشاؤں کے جھرمٹوں کی اتنی وضاحت ابھی نہیں تھی اس لئے مشہور یہ ہوگیا کہ سب کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جارہی ہیں۔ اب جب لوگوں کو معلوم ہوتا ھے کہ کہکشائیں آپس میں ٹکراتی بھی ہیں تو پھر یہ کنفوژ ہوجاتے ہیں کہ جب سب ایک دوسرے سے دور ہورہی ہیں تو ٹکرا کیوں سکتی ہیں تو بس یاد رکھیں کہ کہکشاؤں کے کلسٹر (جھرمٹ) ایک دوسرے سے دور ہورہے ہیں۔

 

سُپر کلسٹر کیا ہوتا ھے؟
اب کہکشاؤں کے جھرمٹ بھی یک و تنہا نہیں رہتے یہ بھی بہت سے جھرمٹ مل کے اکٹھے رہتے ہیں اس تنظیم کو سُپر کلسٹر کہتے ہیں ایک سُپر کلسٹر پچاس کروڑ نوری سال (پانچ سو ملین نوری سال) تک پھیلا ہوا ہوتا ھے ہمارا لوکل گروپ جس سُپر کلسٹر کا حصہ ھے اُس کو “لانیکا سُپر کلسٹر” کہتے ہیں۔ آپ کو ایسے ماہرین مل جائیں گے جو یہ کہتے ہیں کہ کائینات کے پھیلنے کا مُشاہدہ بہ آسانی کرنے کے لئے ضروری ھے کہ ان سُپر کلسٹر کے باہمی پھیلاؤ کا مُشاہدے کیا جائے۔ اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ جن صاحبان کو یہ دکھ کھائے جارہا ہے کہ کائینات کے پھیلنے سے نظام شمسی تتر بتر ہوجائیگا اُن کی یہ فکر کتنی بے جا ھے

 

ریڈ شفٹ سے فاصلہ ماپنا
اوپر ذکر کیا گیا کہ ہائیپرون سُپر کلسٹر کوئی اڑھائی ریڈ شفٹ کی دوری پر ہے۔ اب دیکھتے ہیں ریڈ شفٹ سے فاصلے کیسے معلوم کیا جاتا ھے۔

ریڈ شفٹ پر آپ کو بہت سارا مواد مل جائے گا اس لئے ریڈ شفٹ کیا ہوتی ھے میں آپ کو ان بھول بھلیوں میں نہیں ڈالوں گا۔ فلکیات میں سب سے اہم مقدار جو ماپی جاتی ہے وہ ہے فاصلہ، اور بہت دور کے اجسام کے لئے ریڈ شفٹ کی تکنیک فاصلہ ماپنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔

ریڈ شفٹ کو تو بہت آسانی سے ماپا جاسکتا ہے آپ تجربہ گاہ میں موجود ہائیڈروجن گیس کا ویولنگتھ معلوم کرلیجئے پھر دور دراز کی کہکشاں سے آنے والی ہائیڈروجن ایٹم کی روشنی کا ویولنگتھ معلوم کیجئے کائینات کے پھیلاؤ کی وجہ سے اس کا جکھاؤ سُرخ سپیکٹرم کی طرف ہوگا اس کے فرق کو ریڈ شفٹ کہتے ہیں اور نیچے تصویر میں فارمولا-1 میں اس کا فارمولا دیا گیا ھے۔

اب کچھ ریاضی اور ھبل کے قانون کے استعمال سے ہم دور دراز کی کہکشاں کے فاصلے کا فارمولا نکال سکتے ہیں جو تصویروں میں فارمولا-2 ھے۔ اب اوپر بتائے گئے مضمون میں بتایا گیا ھے کہ یہ سُپر کلسٹر 5۔2 ریڈ شفٹ پر ھے اب اگر آپ یہ ان فامولوں میں لگائیں تو آپ کو دس ارب نوری سال کا فاصلہ ملے گا۔

نیچے ایک تصویر میں مختلف ریڈ شفٹ پر کسی جسم کا ہم سے فاصلہ کیا ہوگا یہ ایک ٹیبل کی صورت میں دیا گیا ھے۔

اس ساری کہانی کا مقصد آپ کو نہایت دور کے فاصلے کیسے ماپے جاتے ہیں اس کی ایک مثال دینا اور آپ کو کائینات کے اس حیرت کدہ کی سیر کروانا بھی تھا جس کا حُسن کسی بھی معشوق سے زیادہ اور کسی بھی شعر سے بڑھ کے ھے۔

ترجمہ اور تبصرہ: جرار جعفری
______________________________
حوالہ جات:یہ تحریر اے-پاڈ کی درج ذیل کی پوسٹ پر بُنیاد کی گئی:

https://apod.nasa.gov/apod/ap181023.html

Visualization Credit: ESO, L. Calçada & Olga Cucciati et al.
Authors & editors: Robert Nemiroff (MTU) & Jerry Bonnell (UMCP)
NASA Official: Phillip Newman Specific rights apply.
NASA Web Privacy Policy and Important Notices
A service of: ASD at NASA / GSFC
& Michigan Tech. U.

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *