Home / فلکیات / گریوٹی کا تبسم

گریوٹی کا تبسم

البرٹ آئین شٹائین کا نظریہء جنرل اضافیت جو آج سےایک سو سال پہلے شائع ہوا تھا، اس نظریے نے ثقلی عدسوں (Gravitational Lens) کے مظہر کی پیش گوئی کی تھی، دور دراز کی ان کہکشاؤں کی یہ بہ ظاہر شرارتی ہنسی والے چہرے کی شکل کی وجہ بھی یہی ثقلی عدسے ہیں، جن کا مُشاہدہ ھبل اور چندرا (دوربینوں) کے ذریعے ایکسرے اور عام روشنی کو ملا کے کیا گیا ھے۔

ان کہکشاؤں کو عرف عام میں چیشیرز کی بلی والا گروپ کہا جاتا ھے۔ اس گروپ کی دو بڑی کروی کہکشائیں روشنی کی قوسوں کے بیچ فریم ہوئی لگ رہی ہیں۔ یہ قوسیں دراصل ان سامنے والی کہکشاؤں سے بہت ہی دور اور ان کے پیچھے کی کہکشاؤں سے آنی والی روشنی سے بنی ہیں۔ سامنے والی کہکشاؤں کا سارا ماس ایک بہت بڑا ثقلی عدسہ بناتا ہے جو دور دراز کی کہکشاؤں کی روشنی کو ایک عام عدسے کی طرح قوسوں میں ٹیڑھا کردیتا ھے۔

یہ ثقلی عدسے کا تصور تو آئین شٹائین نے ہی دیا تھا لیکن یہ تصور کہ یہ عدسہ کہکشاؤں اور ڈارک میٹر کے ماس سے ممکن ھے فرٹز زووکی نے دیا تھا

ظاہر ہے اس سارے ماس میں سب سے زیادہ حصہ ڈارک میٹر کا ھے، اس تصویر میں دو بڑی کروی کہکشائیں جو آنکھوں کی طرح لگ رہی ہیں وہ اس گروپ کی سب سے روشن ترین اور سب سے بڑی کہکشائیں ہیں جو باہم آپس میں ٹکرانے کے عمل سے گزر رہی ہیں ان دونوں کہکشاؤں کی ایک دوسرے کی جانب بڑہنے کی رفتار ایک ہزار تین سو پچاس کلومیٹر فی سیکنڈ (1،350) اسقدر زیادہ ھے کہ اس سے ان کے درمیان موجود گیسوں کے بادل کئی ملین ڈگری تک گرم ہوجاتے ھیں اور ایکسریز پیدا کرنے لگتے ہیں جس کو یہاں جامنی رنگ میں دہکتا ہوا دکھایا گیا ھے۔

چیشیرز کی بلی والا کہکشاؤں کا گروپ دُب اکبر کے مقام پر ھے اور زمین سے ساڑھے چار بلین نوری سال کی دوری پر ھے۔

 

چیشیر(cheshire) کی بلی کیا ھے؟
یہ ایک تصوراتی بلی ہے جس کو لیوس کیرول کے ناول “Alice’s Adventures in Wonderland” سے شُہرت ملی۔ اس بلی کی ایک خاص خصوصیت یہ ھے کہ اس کے چہرے پر ایک بہت ہی شیطانی اور معنی خیز تبسم ہوتا ھے۔
اس تصویر میں کہکشائیں اسی بلی کے تبسم کی وجہ سے چیشیر کی بلی والی کہکشائیں کہلاتی ہیں۔

 

سائینس کی اصطلاحات
سائینسی اصطلاحات عموماً عام معاشرتی الفاظ کو لے کر ہی بنائی جاتی ہیں لیکن ان کے معانی و مطالب سائینس طے کرتی ہے ان کے مطالب ضروری نہیں کہ وہ ہوں جو آپ روزہ مرہ کے استعمال میں لیتے ہیں۔

ڈارک میٹر کا لفظ آغاز میں سائینس میں ہی غلط استعمال ہوا تھا لیکن سائینس میں اس کا مسئلہ اس لئے نہیں ہوتا کہ سائینس میں ان اصطلاحات کو باقاعدہ وضح کردیا جاتا ھے۔ میرا اپنا ذاتی خیال ھے اس کا نام “ان دیکھی گریوٹی” (Invisible Gravity) ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ حقیقت میں یہ بس یہی ھے کہ ایسی گریوٹی جس کا سورس ہمیں نظر نہیں آتا اور اسکے مُتعلق ہم کچھ جانتے نہیں۔

 

فرٹز زووکی: ایک تن و تنہا لیکن نہایت بدزبان سائینسداں
تاریخِ سائینس میں میرا نہایت پسندیدہ کردار ہے فرٹز زووکی (Fritz Zwicky)، جو سوئیٹزرلینڈ کے ایک امیر کبیر گھرانے سے تھا لیکن ساری عمر تحقیق کلیفورنیا، امریکہ، میں کی۔ یہ ایک نہایت بدتمیز، سڑیل، دُشنام طراز لیکن بلا کا ذہین انسان تھا۔ اس کے مزاج کی وجہ سے اس کو کوئی خاطر میں نہیں لاتا تھا اور اس کے کام کو پذیرائی بھی بہت بعد میں ملی۔

زووکی صاحب کی پسندیدہ ترین گالی ہوتی تھی کہ یہ جس کو ناپسند کرتے تھے اُس کو “کروی حرامی” (Spherical Bastard) کہہ دیتے تھے۔ اب اس میں راز یہ ہے کہ کُرہ واحد شکل ھے جس کو جدہر سے بھی دیکھا جائے وہ کرُہ ہی رہتا ھے بدل نہیں جاتا۔ اور زوکی صاحب اپنے ساتھی سائینسدانوں کو اکثر اس نام سے پُکارا کرتے تھے۔

 

زووکی صاحب کے کام
-) ڈارک میٹر کا تصور زوکی نے دیا
-) سُپرنوا کی اصطلاح سائینس میں زوکی صاحب کی وضح کردہ ھے
-) یہ تصور کہ سُپرنوا دراصل نیوٹران سٹار بننے کے عمل میں ہوتے ہیں
-) یہ تصور کہ کہکشائیں تجاذبی عدسہ بنا سکتی ہیں
-) کہکشاؤں کی فہرستیں

زووکی 1898 میں پیدا ہوئے اور 1974 میں فوت ہوگئے ان کی وصیت کے مطابق ان کو سوئیٹزرلینڈ میں دفنایا گیا

 

ڈارک میٹر 
میرا خون اُبلنے لگتا ھے جب میں لوگوں کو نوری سال کو وقت کی اکائی اور “ڈارک میٹر” کو سیاہ مادہ کہتے دیکھتا ہوں۔

ڈارک میٹر کو تو یار لوگ کبھی “تاریک مادہ” کہتے ہیں اور کبھی “سیاہ مادہ” پھر اس اُدھیڑ بُن میں ایسا اُلجھتے ہیں کہ آہستہ آہستہ اس کو نیلے آسمان کی طرح خلاء کے سیاہ ہونے کی وجہ سمجھنے لگتے ہیں اور اگر کوئی سمجھائے کہ بھائی ایسا نہیں تو تیر و تبر اور تلوار و شمشیر لے کر چڑ دوڑتے ہیں۔

ڈارک یا سیاہ اُس چیز کو کہتے ہیں جو روشنی کی تمام شعاعوں کو جذب کرلے اس لئے کہتے ہیں کہ گرمیوں میں ڈارک کپڑے نہیں پہننے چاہئے کہ یہ سب حرارت جذب کرکے آپ کو مذید گرمی لگا دیں گے۔

اب ڈارک میٹر وہ مادہ ہے جو روشنی جذب ہی نہیں کرتا اس لئے اس کو سیاہ کہنا غلط ھے۔ ڈارک میٹر صرف روشنی کو جذب ہی نہیں کرتا بلکہ اس کا برقناطیسیت کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعامل ہی نہیں ہوتا۔ یاد رکھیں کہ کائینات میں اشیاء برقناطیسیت کی وجہ سے قائیم رہتی ہیں. کرکٹ کی بال بیٹ سے ٹکرا کے دور اس لئے جاتی ھے کہ بیٹ کی لکڑی کے ایٹم آپس میں برقناطیسی قوت کی وجہ سے اتنی سختی سے جکڑے ہوتے ہیں کہ بال ان کو توڑ نہیں سکتی اور مومینٹم کی بقا کے قانون کی وجہ سے اب بال کو دور جانا پڑتا ھے۔ اب اگر یہی بال ڈارک میٹر کی بنی ہو تو یہ بال بیٹ کے بیچ میں سے ایسے نکل جائیگی کہ جیسے یہ وہاں ہو ہی نہ۔

ڈارک میٹر ایسا میٹر ھے جو بغیر نظر آئیے اور کسی قسم کا کوئی تعامل کئے بغیر صرف اپنی گریوٹی رکھتا ھے اور اسی گریوٹی سے کہکشاؤں کے چاک پر بیٹھے کسی ماہر کوزہ گر کی طرح کہکشاؤں کی مختلف اشکال تخلیق کرتا ھے۔ جیسا کہ اس تصویر میں موجود کہکشاؤں کا مادہ اتنا نہیں کہ وہ ایسی قوسیں بنا سکیں ایک اندازے کے مطابق ان کا 95 فیصد مادہ ڈارک میٹر ھے۔جو اتنی شدید گریوٹی پیدا کرتا ھے کہ دور دراز کی کہکشاؤں کی روشنیوں کی ایک قوس بنا دیتا ھے۔

ترجمہ اور تبصرہ: جرار جعفری
_______________________
حوالہ جات:یہ تحریر اے-پاڈ کی درج ذیل کی پوسٹ پر بُنیاد کی گئی:

https://apod.nasa.gov/apod/ap170805.html

Image Credit: X-ray – NASA / CXC / J. Irwin et al. ; Optical – NASA/STScI

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *