Home / فلکیات / کہکشائی مرکز میں سنگیولیرٹی کی کثرت 

کہکشائی مرکز میں سنگیولیرٹی کی کثرت 

ماہرین فلکیات کے پاس بلیک ھولز کے مجموعے کے اظہار کے لئے کوئی معقول اسم جمع نہیں ھے، لیکن یقین کریں ان کو اس کی جلد ہی ضرورت پڑنے والی ھے۔

یہ تصویر چندرا ایکسرے رصد گاہ سے لی گئی ہے۔ اس تصویر میں سُرخ نشان ایک درجن کے قریب ایسے بلیک ھولز کی نشاندہی کررہے ہیں جو بائنری ستاروں کے سسٹم میں ہیں۔ ستارے عموماً دو یا دو سے زیادہ ہم جولی ستاروں کے ساتھ ہوتے ہیں جب ان میں سے کوئی ایک بلیک ھول بن جاتا ھے تو ایسے سسٹم کو بائنری بلیک ھول سسٹم کہتے ہیں۔ ہماری کہکشاں کے مرکز سے کوئی تین نوری سال کے فاصلے پر پانچ سے تیس شمسی ماس والے بائنری بلیک ھول سسٹم بھن بھنا رہے ہیں یہ وہی مقام ہے جہاں ایک عظیم الہیت ماس (Supermassive Blackhole) بلیک ھول کا مسکن ھے۔

اس تصویر میں پیلے نشان بلیک ھول سے نسبتاً کم ماس والے نیوٹران ستاروں یا سفید بونوں کو ظاہر کرتے ہیں جن سے شدید ایکسرے بھی خارج ہورہی ہیں۔ بذات خود بلیک ھول عموماً نظر نہیں آتے لیکن بائنری سسٹم میں یہ اپنے ہمسائے ستارے سے بہت سارا مواد اپنے گرد جمع کرلیتے ہیں جس سے یہ ایکسرے پیدا کرتے ہیں۔ اب چندرا دوربین کی یہ حد ھے کہ یہ مرکزِ کہکشاں تک کے فاصلے تک صرف ایسے بلیک ھولز کو ہی دیکھ سکتی ہے جو اسطرح کے بائنری سسٹم میں کسی نقطے کی طرح قدرے روشن ہوں۔

 

چندرا ایکسرے رصد گاہ
چندرا ایکسرے رصد گاہ ایک مصنوعی سیارہ ہے جو زمین کے گرد مدار میں ھے اس کا نام شہر لاہور میں انیس سو دس میں جنم لینے والے چندرا شیکھر کے نام پر رکھا گیا تھا۔

چندرا شیکھر برصغیر پاک و ہند سے آنے والے عظیم ترین سائینسدانوں میں ایک بہت اونچا مقام رکھتے ہیں ان کی عظمت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ آپ کو 1983 میں فزکس کا نوبل انعام اُس کام پر ملا جو آپ نے 1929 میں اٹھارہ سال کی عمر میں وقت کاٹنے کے لئے ہندوستان سے انگلستان جاتے ہوئے بحری جہاز میں کیا۔ یہ کام بُنیادی طور پر یوں تھا کہ اگر کسی ستارے کا ماس اپنی عمر کے خاتمے کے وقت سورج کے ماس سے ڈیڑھ گُناں سے کم ہو تو ایسے ستارے میں گریوٹی اتنی زیادہ نہ ہوگی کہ اس کو مزید دباؤ سے کسی اور حالت میں بدل سکے۔ ایسے ستارے جن کا ماس اپنی موت کے وقت سورج کے ماس سے ڈیڑھ گُناں کم ہو تو ان کو آج ہم “سفید بونے” (White dwarf) کہتے ہیں۔

ہوتا یوں ھے کہ جب ستارے میں کسی بھی قسم کی فیوژن کا سلسلہ بند ہوجاتا ھے تو پھر گریوٹی کے بےتحاشہ دباؤ کو روکنے کے لئے ستارے میں کوئی انتظام موجود نہیں ہوتا اسطرح سُکڑنے کا یہ عمل ستارے کے تمام الیکڑانوں کو ان کے تمام ممکنہ مداروں تک کشاں کشاں لئے جاتا ھے اس حالت کو فزکس میں الیکٹران ڈی-جینرسی پریئشر کہتے ہیں یعنی ڈاکٹر عبدالسلام کے عظیم اُستاد “ولف گینگ پاؤلی” کے اصول کے مطابق الیکٹران اب کسی اور مدار میں نہیں جائیں گے اور اس تبدیلی کے خلاف کام کریں گے اور یوں گریوٹی کی طالع آزمائیوں کو الیکٹرانوں کا یہ پریشئیر روک دے گا۔ اور جونہی یہ رُکے گا ستارے پر روشنی کی رفتار کے ایک چوتھائی حصے سے گرتا ہوا مواد ایک دیوار سے ٹکرائے گا جس کا منطقی نتیجہ یہ ہوگا کہ ستارہ ایک دھماکے سے پھٹ جائیگا اور یوں خلا کی پہنائیوں میں رنگوں کا ایک عظیم سمندر عروسِ حیات کے ماتھے کے جھومر کا ساز و سامان لئے بکھر جائے گا۔ جس پر کارل ساگاں کا کہنا تھا کہ “ھم خاکسترِ کواکب سے گُندھی مٹی سے بنے ہیں”
(We are made up of star dust)

یہ حد یعنی ڈیڑھ شمسی ماس فلکیات میں بیحد اہم ہے دور دراز کی کہکشاؤں کے فاصلے جس سیاہی سے لکھے جاتے ہیں وہ حدِ چندرا ہی سے بنی ہوتی ہے (جس پر پھر کبھی لکھوں گا) اسی طرح نیوٹران ستارہ کیسے بنے گا اُس کی بشارتیں بھی اسی گلی سے آتی ہیں۔

 

ترجمہ اور تبصرہ: 
جرار جعفری


__________________
حوالہ جات:
یہ تحریر اے-پاڈ کی درج ذیل کی پوسٹ پر بُنیاد کی گئی:

https://apod.nasa.gov/apod/ap180512.html

More info:

https://news.nationalgeographic.com/…/black-hole-stellar-b…/

حد چندرا کی ریاضیاتی تعبیر
http://farside.ph.utexas.edu/teaching/…/lectures/node88.html

Image Credit: NASA/CXC / Columbia Univ./ C. Hailey et al.

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *