Home / فلکیات / کریب نیبولا

کریب نیبولا

کریب نیبولا چارلس میسئیے کی فہرست میں ایم-1 کے طور پر آتا ھے، یہ وہ فہرست ھے جس کو اٹھارہویں صدی عیسوی میں “چارلس میسئیے” نے ترتیب دیا اس فہرست کو مرتب کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آسمان پر ایسے اجسام جو کامٹ نہیں ہیں لیکن لگتے وہ روئی کے گالوں کی طرح ہیں کو شناخت کیا جائے تاکہ لوگ ان کو کامٹ نہ سمجھ بیٹھیں۔ اس دور میں فلکیات کا اہم ترین مسئلہ ایسے کامٹس کی نشاندہی تھا جو آسمان پر گاہے بگاہے ظاہر ہوتے تھے اور دُنیا کے اعلیٰ ترین فلکیات دان اس کام میں اپنا وقت صرف کرتے تھے اور یورپ کے درباروں میں اعلیٰ سائینسی مقام حاصل کرتے تھے۔

در حقیقت کریب نیبولا ایک بہت بڑے ستارے کے خاتمے کے نتیجے میں سُپر نوا سے پھٹنے کے بعد تیزی سے پھیلنے والے مواد سے ملکر بنا ھے. اس تصویر کے دلچسپ اور حسین مصنوعی رنگ دراصل چندرا، ھبل اور سپیٹزر نامی سپیس رصدگاہوں سے ملنے والے ڈیٹا کو جمع کرکے بنائے گئے ہیں۔ اس تصویر کا مقصد یہ ھے کہ اس سے پھیلتے ہوئے ملبے میں شامل روشنی کی اقسام کو سمجھا جائے۔ اس میں نیلا اور سفید رنگ ایکسریز، جامنی رنگ نظر آنے والی روشنی اور گُلابی رنگ انفراریڈ روشنی کو ظاہر کررہا ھے۔

فلکیات دانوں کے نزدیک سب سے عجیب و غریب فلکی جسم ایک نیوٹران ستارہ ہے۔ کریب پُلسار ایک ایسا ہی نیوٹران ستارہ ہے جو اس تصویر کے مرکز میں ایک روشن نشان کی صورت میں نظر آرہا ہے یہ ایک تباہ شُدہ ستارے کی بچ جانے والی کور ہے جو کم و بیش تیس کلومیٹر کے قطر والا ایک ایسا نیوٹران ستارہ ھے جو ایک سیکنڈ میں تیس بار اپنے محور کے گرد ایک فلکی لاٹو کی طرح گھومتے ہوئے کریب نیبولا سے خارج ہونے والی تمام برقناطیسی اسپیکٹرم یعنی روشنی کو جِلا بخشتاہے۔

کم وبیش بارہ نوری سال کے علاقے میں پھیلا ہوا یہ کریب نیبولا ساڑھے چھ سو نوری سال کی دوری پر برج ثور میں واقع ہے۔

 

نیوٹران ستارہ
نیوٹران ستارہ بعض بہت بڑے بڑے ستاروں کے دھواں ہوتے وجود کی آخری ہچکیوں کے بعد بچ جانے والا ایک ایسا مُقام ہے جس میں نیوکلئر فیوژن کی سانسیں تھم جانے کے بعد ستارے کا ماس اتنا نہیں ہوتا کہ بلیک ھول بن جائے لیکن اس کا ماس ہوتا حدِ چندرا (یعنی ڈیڑھ شمسی ماس سے زیادہ) ہے یہ وہ مقام ھے جہاں ایٹموں میں تمام مداروں میں الیکٹران ہونے کی وجہ سے بننے والا پریشیر اب کائینات کی نحیف ترین قوت یعنی گریوٹی کی گرفت سے بچ نہیں سکتا اور تمام الیکٹران نیوکلیس میں گر کے پروٹانوں کے ساتھ مل کے نیوٹران بن جاتے ہیں اور یوں اس کائیناتِ ھست و بود کا حسین ترین مظہر قدرت جنم لیتا ھے جس کو نیوٹران ستارہ کہتے ہیں۔

نیوٹران ستارے کی سب سے پہلے پیشین گوئی بیسویں صدی کے ایک قدرے غیر معروف لیکن نہایت ہی اہم اور شاندار ماہر فلکیات نے کی۔ ان کا نام تھا فرڑز زوکی (Fritz Zwicky) انہوں ایک طرف غیر مرئی گریوٹی (ڈارک میٹر) کا تصور دیا تو دوسری طرف نیوٹران ستاروں کے وجود کی بشارت بھی دی اس کے علاوہ آپ نے ہی آئین شٹائین کے نظریات کی بُناد پر یہ تصور بھی دیا کہ کہکشائیں تجاذبی عدسوں کے طور پر کام کرسکتی ہیں۔

زوکی صاحب سوئیٹزرلینڈ کے ایک امیر گھرانے سے تھے جنہوں نے اپنی زیادہ تر تحقیق امریکہ میں رہ کر کی۔ یہ ایک نہایت ہی دلچسپ شخصیت تھے جس پر ایک مضمون پر کام کررہا ہوں تکمیل کو پہنچا تو ضرور شیئر کروں گا.

 

چارلس میسئیے (Charles Messier)
اٹھارہویں صدی عیسویں میں فلکیات دانوں کے وقار کا اندازہ شہابیوں (Asteroids) کی دریافت سے لگایا جاتا تھا، لیکن آسمان پر یہ دیکھا گیا تھا کہ کچھ اجسام شہابیوں سے بہت دور لیکن شہابیوں کی ہی طرح روئی یا برف کے گالوں جیسے لگتے تھے چارلس میسئیے نے جو ایک فرانسیسی ماہر فلکیات تھا اس مسئلے کو یوں حل کیا کہ اس نے ایک تفصیلی فہرست تیار کی جس میں ایسے سارے اجسام کا اندراج کیا جو شاید کسی کو شہابیہ ہونے کا دھوکا دیں ان کو چارلس میسئیے کی جدول (Messier’s catalog) کہا جاتا ھے آپ کو جب بھی کبھی کسی فلکی جسم کا نام “ایم” M سے شروع ہوتا نظر آئے تو جان جائیں کہ یہ چارلس میسئیے کی جدول سے آیا ھے۔

ترجمہ اور تبصرہ: جرار جعفری

_________________________
حوالہ جات: یہ تحریر اے-پاڈ کی درج ذیل کی پوسٹ پر بُنیاد کی گئی:

https://apod.nasa.gov/apod/ap180317.html

Image Credit: NASA – X-ray: CXC, Optical: STSCI, Infrared: JPL-Caltech,

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *