Home / فلکیات / کائنات کے حیرت کدہ سے ایک عکس

کائنات کے حیرت کدہ سے ایک عکس

مجھے ہمیشہ سے کائینات کی شاعری نے اپنے حصار میں لئے رکھا ہے، مجھے آج بھی جیمس کلارل میکسول کی برقناطیسیت کی ریاضیاتی مُساوات کسی بھی اعلیٰ ترین شعری مجموعے کے پائے کی ہی لگتی ہیں۔ میں آج بھی بے دھیانی میں یہ مساوتیں لکھ کر اور پہروں ڈسپلیسمینٹ کرنٹ(Displacement Current) کے حُسن میں ویسے ہی ڈوبا رہتا ہوں جیسے غالب یا میر کی کوئی بھولی ہوئی غزل یاد آگئی ہو.

اور یہی حال فلکیاتی مظاہر کا ہے، میں زحل کے چاند انسیلڈس (Enceladus) کے حُسن سے خود کو دور نہیں رکھ سکتا، اور زحل کے ہی دو چاندوں اپیمیتھیس اور جینس (epimetheus and janus) کے عجیب و غریب مداروں کا آپس میں باہمی بدلنے کا تصور تو ایسا ہے کہ جیسےگویا مُدتوں کوئی شعر سمجھ نہ آنے کے بعد اک دن اچانک دہلیزِ ادراک پار کے آپ کے تجربے کے صحن میں آ بیٹھے۔

بس ایسا ہی میرا جنونی تعلق کائنات کے ایک مظہر سُپرنوا (Super Nova) کے ساتھ بھی ہے، جس کو آپ مختصراً ستاروں کی موت کے عمل میں روشن ترین دھماکے سے پھٹ پڑنے کے آخری مرحلے کو سمجھ لیں۔ اس دھماکے کی چمک اور طاقت اسقدر ہوتی ہے کہ اگر کوئی ستارہ کائینات کی سرحد مشاہدہ (یعنی لگ بھگ چودہ بلین نوری سال) پر بھی پھٹ پڑے تو بھی یہ نظر آجائے گا۔ کچھ ایسا ہی سلسلہ اس پوسٹ میں لگی تصویر کا بھی ہے۔

اس کو ناروے کے فلکیات دان سجور ریفسڈال (Sjur Refsdal) کے 1964 کے کام کی بُنیاد پر ایس-این -ریسفڈال (SN Refsdal-) کہتے ہیں (یعنی سُپر نوا ریسفڈال) اس تصویر میں ایک دور دراز کے ستارے کی موت کے مناظر دکھائیں گئے ہیں۔ اس میں نیچے والے سُرخ دائیرہ والی تصویر کچھ سال پہلے کی ہے اور درمیان والے سُرخ دائیرے والی تصویر اس ماہ چند روز قبل کی ہے۔

لیکن اس کی تفصیل سے پہلے ایک آدھی سائینسی اصطلاح کی وضاحت ضروری ہے۔

تجاذبی عدسہ(Gravitational Lense):
یہ البرٹ آئن شٹائین کی بے شمار پیشن گوئیوں میں سے ایک تھی جو اس کی زندگی میں مُشاہدہ نہ کی جاسکی، اس کا بیان کچھ یوں ہے کہ جب بہت دور کی کہکشاؤں کی روشنی کسی سامنے والی کہکشاں کے پاس سے گذرے گی تو اس کہکشاں کی بے انتہا تجاذبی قوت اس کو اپنے رستے سے قدرے موڑ دے گی جس سے دور بینوں کو یوں لگے گا کہ کہیں ایک بہت بڑا عدسہ رکھا ہے جس کی وجہ سے روشنی ایک جگہ مُرتکز ہوئے جارہی ہے۔ اب پچھلی کچھ دھائیوں میں اس طرح کے بہت سارے عدسے مشاہدہ کئے جاچُکے ہیں۔

آئن شٹائین کراس (Einstein Cross):
اس تصور کا اطلاق ایک اور بڑے حیرت انگیز مظہر پر ہوتا ہے جس کا تعلق ہماری اس تصویر کے ساتھ بھی ہے اس کو کہتے ہیں “آئن شٹائین کراس” یعنی ایک ایسا مظہر جس میں ایک ہی روشنی کا منبہ کسی کہکشاں کے تجاذبی عدسے کے سبب سے چار مختلف سمتوں سے نظر آئے۔ اس مظہر کی ایک مثال حُرکہ کا عدسہ یا قویزار (Quasar) ہے اور دوسرا تصویر مذکورہ میں اگر آپ سب سے نیچے والے سُرخ دائیرے میں تھوڑا غور سے دیکیھں تو آپ کو مرکز کے گردا گرد چار روشنی کے چھوٹے چھوٹے نقطے نظر آئیں گے یہ چاروں دراصل ایک ہے لگ بھگ دس بلین نوری برس دور کسی کہکشاں میں سُپر نوا میں پھٹتے ہوئے ایک ہی ستارے کی چار تصاویر ہیں جس کو سامنے والی کہکشاں کے تجاذبی عدسے نے چار سمتوں میں پھلا کر ہمارے تک پہنچایا ہے۔

اب سوال اُٹھتے ہیں کہ یہ کیونکر ثابت ہوتا ہے کہ یہ سُپر نوا ہے اور پھر یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ ایک ہی ستارے کے پھٹنے کا نتیجہ ہے، یہ بھی تو ممکن ہے کہیں کوئی چار ستارے ایک ساتھ پھٹ پڑے ہوں۔ اس کا اختصار سے جواب یہ ہے کہ اس مظہر کا سُپر نوا ہونے کی خبر اس سے ملتی ہے کہ اس کہکشاں میں یہ روشنی کے نقاط پہلے مُشاہدہ نہیں کئے گئے اور کچھ سالوں بعد یہ دھندلے ہوکر غائیب ہوچکے ہیں جو کہ سب سُپر نوا کے دستخط ہوتے ہیں۔ اب یہ سب ایک ہی دور دراز کا ستارہ کیسے ثابت ہوا تو عرض ہے کہ ان چاروں روشنی کے نقاط کی کیمائی بناوٹ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی کیمائی ساخت بالکل یکساں ہے۔ مزید یہ کہ ان چاروں نقاط کی ریڈشفٹ(Red-shift) (جو ہمیں اس کے زمین سے فاصلے کا تعین کرنے میں مدد کرتی ہے) بالکل ایک سی ہے یہ تمام شواہد جو اس کے سوا ممکن نہیں کہ روشنی ایک ہی ستارے سے آرہی ہو۔

اب اگر ساری کہانی یہاں ختم ہوجاتی تو میرے جیسے کے لئے تو یہ ہی اس حیرت کدہ میں گم ہونے کے لئے بہت تھا لیکن سائنسدانوں نے جب کچھ عرصہ قبل اس سُپر نوا کو سمجھا اور ارد گرد کے باقی کہکشاؤں کا مطالعہ کیا تو یہ پیشین گوئی کی گئی کہ ایک سال سے پانچ سال تک اُپر والی کہکشاں میں یہی سُپر نوا ایک بار پھر نظر آئے گا اب میں کچھ عرصے سے اس خبر کے انتظار میں تھا، یہ انتظار اس مہینے تب ختم ہوا جب ھبل خلائی دوربین نے اس کا مُشاہدہ کیا، اب کیونکہ ھبل خلائی دور بین نے اس کہکشاں کی تصاویر اکتوبر دو ہزار پندرہ کے بعد گیارہ دسمبر دو ہزار پندرہ میں لی اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سُپر نوا نظر کس دن آیا لیکن یہ پشین گوئی کے بتائے ہوئے وقت کے ہی بیچ میں ہے جو بہت ہی حیرت انگیز بات ہے.

یہ ان تصاویر کے تجزئے کی تصاویر وکی پیڈیا سے یہاں چسپاں کررہا ہوں

ایسا انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ فلکیات دانوں نے سُپر نوا کے دیکھے جانے کی پشین گوئی کی اور پھر اس کو مُشاہدہ بھی کیا، یہ بذات خود ایک اتنا خوبصورت واقعہ ہے کہ میں خوش قسمت ہوں کہ میں اس دور میں زندہ ہوں جب یہ سب سمجھا جاسکا اور میں اس کا ایک ادنیٰ سا شاہد تھا۔

جرار جعفری

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *