Home / فلکیات / چشمِ گرُبہ نیبولا(بلی کی آنکھ والا نیبولا)

چشمِ گرُبہ نیبولا(بلی کی آنکھ والا نیبولا)

بعضوں کو یہ شاید بلی کی آنکھ لگے، فلکیات میں اس نیبولا کو چشمِ گرُبہ یعنی “بلی کی آنکھ والا نیبولا” کہتے ھیں۔ یہ نیبولا زمین سے تین ہزار نوری سال کے فاصلے پر ھے اور یہ ایک عام سا سیاروی نیبولا (planetary nebula) ھے۔

 

سیاروی نیبولا:
یاد رہے سیاروی نیبولا کو سیاروی کہنے کی وجہ تاریخی طور پر یہ تھی کہ اگر آپ کسی سیارے کو دوربین سے دیکھیں تو وہ ایک روئی کے گالے کی طرح نظر آتا ھے جب کہ ستارے ایک نقطے کی طرح کے لیکن کچھ اجسام تھے جو سیاروں سے بہت دور تھے لیکن لگتے وہ روئی کے گالے تھےتو اس مماثلت سے ان کو “سیاروی نیبولا” کہا گیا اب ہم جانتے ہیں کہ یہ کسی ستارے کی سطح سے اُتری ہوئی گرم گیسوں کی اُن پرتوں سے بنی دُخانی اشکال ہوتی ہیں جو سُپر نوا وغیرہ میں ستارہ اُتار دیتا ھے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ ہمیں بادلوں میں بھالو، مچھلی وغیرہ نظر آئیں.

ایسے ہی بلی کی آنکھ والا نیبولا (Cat’s Eye Nebula) سورج جیسے ستاروں کی زندگی کے آخری لیکن بہت ہی مُختصر پہلو کو اُجاگر کرتا ھے۔ اس نیبولا کے مرتے ہوئے مرکزی ستارے نے اپنی سطح کی باہر والی تہوں کو باہر پھینکتے ہوئے باہر والے گرد و غبار کے حسین دائیرے پیدا کئے ہیں یہ دائرے اس عمل کی باقاعدگی کی خبر دیتے ہیں کہ یہ ستارہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک تسلسل سے سانپ کی طرح اپنی جلد اُتارتا رہا ھے۔ مرکز میں بننے والے حسین اور پیچیدہ سٹرکچر کے بننے کے عوامل کو ابھی صحیح طرح سے سمجھا نہیں گیا۔

یہ تصویر ھبل ٹیلی اسکوپ سے لی گئی ھے اور کمپیوٹر کے ذریعے اسکی نوک پلک سنواری گئی ھے یہ آنکھ کا سا نیبولا حقیقت میں ایک نوری سال کی لمبائی میں پھیلا ہوا ہے۔ یقیناً اس بلی کی آنکھ میں گھورتے ہوئے ماہرین فلکیات خود اپنے سورج کی قسمت کا شاید حال دیکھ رہے ہوں گے جو پانچ بلین سالوں میں ارتقاء کی منازل طے کرتا “سیاروی نیبولا” کی منزل تک پہنچے گا۔

 

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *