Home / فلکیات / چاند کے گڑھوں میں ایک اور کا اضافہ

چاند کے گڑھوں میں ایک اور کا اضافہ

سال بھر کم سے کم دو  بار چاند گرہن کا نظارہ کیا جاتاہے مگر 21جنوری 2019کا چاند گرہن اس حوالے سے منفرد تھا کہ اس چاند گرہن پر کچھ ایسا دیکھا گیا جو اس سے پہلے کبھی انسانی آنکھ نے نہیں دیکھا تھا۔

21جنوری کے چاند گرہن پر ہزارو ں لوگوں نے چاند پر دو فلیش دیکھی تھی، جن میں نے سے ایک چاند کے جنوبی نصف کرہ میں تھی۔ ان فلیشز کی کئی ویڈیوز بھی یوٹیوب پر موجود ہیں۔

چاند کے گڑھے نظام شمسی کے آوارہ پتھروں کے ٹکرانے کی وجہ سے بنے ہیں۔ اور اب ان میں ایک کا اضافہ ہو چکا ہے۔ جی یہ اضافہ ایک پتھر نے کیا جو کہ 21جنوری کے چاند گرہن کے دوران دیکھا گیا تھا۔ چاند پر ایسے کئی پتھرپہلے بھی ٹکرائے ہونگے اور  اب بھی ٹکراتے ہونگے مگر اُن کی روشنی اتنی کم ہوتی ہے کہ ہم انہیں نہیں دیکھ پاتے۔ کسی چاند گرہن کے دوران ایسا پہلی بار ہوا اور چاند کی انتہائی کم روشنی کی بدولت ہم اس عمل کو دیکھ پائے۔

ماہر فلکیاتJorge Zuluagنے ویڈیوز اور تصویروں کے تجزیے اور بعد میں نظر آنے والے گڑھے کے مشاہدے سے اس ٹکراو کے بارے میں دلچسپ معلومات فراہم کی ہے۔ اُس کے مطابق ٹکرانے والا پتھر سائز میں ایک بیس بال کے گیند کے برابر تھا جس کا وزن 7سے40کلو کے درمیان تھا ۔ اس ٹکراو نے  آدھے ٹن بارود کے برابر دھماکہ کیا  جس کے نتیجے میں چاند پر تقریبا ً دس میٹر کا ایک نیا گڑھا وجود میں آیا ہے۔

ایک سوال جو دماغ میں آتا ہے وہ یہ کہ اتنے کم سائز کے پتھرسے  آدھے ٹن بارود جتنی  انرجی کیسے بنی؟ تو اس کا جواب اُس پتھر کی سپیڈ میں تھا۔ ٹکراو کے وقت وہ پتھر 13.8 کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہا تھا۔

 

چاند  ہمیشہ سے زمین کیلئے ایک مہربان دوست کی طرح رہا ہے۔ چاند کی سطح پر نظر آنے والے ہزاروں گڑھے اس کی محبت کی نشانی ہیں ۔ یہ ان پتھروں کے نشان ہیں جنہوں نے زمین کی طرف آنا تھا اور نا جانے ان میں سے کتنے زمین پر تباہی کی علامت بن جاتے مگر چاند نے انہین اپنے دامن میں سمیت لیا۔

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *