Home / فلکیات / پیری ہیلین اور ایپ ہیلین

پیری ہیلین اور ایپ ہیلین

زمین کا مدار سورج کے گرد ایک مکمل دائرہ میں نہیں ہے بلکہ بیضوی ہے اور سورج اس بیضوی دائرہ کے درمیان میں نہیں بلکہ درمیان سے تھوڑا سا ایک طرف واقع ہے۔ جیسا کہ تصویر میں واضح ہے۔ اس وجہ سے سورج سے زمین کا فاصلہ سال میں ایک سا نہیں رہتا بلکہ اس میں کمی بیشی ہوتی رہی ہے۔ سورج کا زمین سے کم سے کم فاصلہ 91ملین میل اور زیادہ سے زیادہ فاصلہ 94.5ملین میل ہے۔  سورج جب زمین سے کم سے کم فاصلہ پر ہوتا ہے اسے ہم پیری ہیلین کہتے ہیں اور جب سورج زمین سے زیادہ سے زیادہ فاصلہ پر ہوتا ہے ایپ ہیلین کہلاتا ہے۔

اگلا پیری ہیلین 3جنوری 2019ہو گاجبکہ ایپ ہیلین4جولائی 2019کو ہو گا۔ جی ہاں چار دن بعد ہم سورج کے قریب ترین ہوں گے۔

یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ جب ہم سورج کے قریب ترین ہوتے ہیں تو شدید سردی ہوتی ہے اور جب سورج سے زیادہ فاصلہ پر ہوتے ہیں تو گرمی ہوتی ہے۔ اس چیز کو سمجھنے کیلئے ہمیں گلوب کے جھکاو اور گلوب پر پاکستان کی پوزیشن کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔  زمین اپنے ایکسس پر 23.5ڈگری جھکی ہوئی ہے۔ (دیکھیں تصویر نمبر2)جب زمین پیری ہیلین کے دوران سورج کے قریب ترین ہوتی ہے تو زمین کا جنوبی نصف کرہ سورج کے سامنے ہوتا ہےاور سورج کی شعاعیں  خط جدی پر تقریباًعموداً پڑھ رہی ہوتی ہیں۔ جس وجہ سے جنوبی نصف کرہ میں گرمیوں کا موسم چل رہا ہوتا ہے۔ پاکستان چونکہ شمالی نصف کرہ میں خط سرطان کے قریب واقع ہے اور زمین کے جھکاو کی وجہ سے سورج کی شعاعوں کو یہاں تک پہنچنے میں زیادہ وقت اور کرہ ہوائی میں زیادہ سفر بھی کرنا پڑتا ہے لہذا سورج کی کرنوں میں وہ گرمی نہیں ہوتی جو کہ جنوبی نصف کرہ کے ممالک میں محسوس ہوتی ہے۔ اس لئے شمالی نصف کرہ میں پیری ہیلین کے دونوں میں سردی کا موسم ہوتا ہے۔

گرمی کے دنوں میں یہ سارا سسٹم الٹ ہوجاتا ہے اور زمین اپنے مدار میں حرکت کرتی ہوئی سورج کے دوسری طرف چلی جاتی ہے۔ ان دنوں میں زمین کے جھکاو کی وجہ سے سورج کی شعاعیں شمالی نصف کرہ میں عموداً پڑتی ہیں اور گرمیوں کا موسم ہوتا ہے، حالانکہ ہم سورج سے زیادہ دوری پر ہوتے ہیں

اگر پیری ہیلین کا ایونٹ گرمیوں کے دنوں میں ہوتا تو شمالی نصف کرہ میں گرمی اور سردی دونوں موسموں میں شدت ہوتی۔

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *