Home / فلکیات / پہلا شخص جس نے خلا میں سفر کی تجویز پیش کی

پہلا شخص جس نے خلا میں سفر کی تجویز پیش کی

خلا اور چاند پہ جانے والے پہلے شخص کے نام سے تو سبھی واقف ہوں گے مگر خلا میں جانے کی تجویز پیش کرنے والے پہلے شخص سے یقینا کافی لوگ ناواقف ہوں گے ۔

جان ولکنز (1672-1614) جو کہ ایک تھیالوجیکل اور فلسفی تھا اور اس نے اولیور کرومویل کی چھوٹی بہن روبینا سے شادی کی تھی ۔ علم اور فلسفے سے جنون کی حد تک لگاو ہونے کی وجہ سے وہ کئی علوم کا ماہر تھا ۔ اس نے رائل سوسائٹی کی بنیاد رکھی اور اپنی دو کتابوں میں اس نے یہ نظریہ دیا کہ ایسی گاڑیاں جو رتھ کی طرز پہ بنی ہوں اور انسانوں کو چاند کی طرف لے جائیں ۔ ان کتابوں کے نام The discovery of a world in the Moone 1638 اور A Discourse concerning a new Planet 1640 ہیں ۔

دوسرے بہت سے سائنسدان اور فلسفیوں کی طرح اس کا بھی یہ خیال تھا کہ چاند اور دوسرے سیارے آباد ہیں اور ہمیں وہاں کے باسیوں سے نہ صرف ملنا چاہیئے بلکہ تجارت وغیرہ بھی کرنی چاہیئے ۔ اس نے یہ نظریہ دیا کہ لوگ دنیا پہ ایک مقناطیسیت کی وجہ سے موجود ہیں اور اگر بیس میل سے اوپر کی بلندی پہ پہنچنا ممکن ہو سکے تو خلا میں سفر کرنے والے آزاد ہو جائیں گے وہ اڑ کر یا تیر کا اپنا سفر چاند کی طرف کرنے کے قابل ہوں گے اور سانس لینا اتنا مسئلہ نہیں رہے گا کیونکہ خلاباز جلدی اس صاف فضا میں پہنچ جائیں گے جس میں فرشتے سانس لیتے ہیں ۔

ولکنز کی کتاب Mercurry, or the Secret and Swift Messenger 1641 انگریزی زبان کی پہلی کتاب ہے جو کہ کریپٹالوجی پہ تحریر کی گئی ہے۔

ولکنز نے اپنے اسسٹنٹ رابرٹ ہک جو کہ ایک ٹیکنیشن بھی تھا کے ساتھ مل کر ویڈہم کالج ، اکسفورڈ میں 1650ء کے دوران اڑنے والی مشینیں بنانے کی کوششیں بھی کی ۔ اسی طرح کی ریسرچ کی وجہ سے چند سالوں بعد اس کو ویکیومز کو بہتر طور پر سمجھ لینے کی وجہ سے یہ احساس ہوا کہ خلا میں سفر اس کی سوچ سے کہیں زیادہ پیچیدہ ترین تھا ۔

وہ اپنے مضمون An essay towards a Real character and a Philosophical Language 1668
کی وجہ سے مشہور ہوا جس میں اس نے ایک یونیورسل زبان اور پیمائش کے ایک نئے سسٹم جو کہ میٹرک سسٹم سے مشابہہ تھا کا تصور پیش کیا ۔ اس نے ٹرنٹی کالج کے ماسٹر کے طور پر بھی اپنی خدمات پیش کیں اور وڈہم میں اپنے کام کے دوران سائنسدان اور فلسفیوں کو اکٹھا کر کے آکسفورڈ فلاسفیکل کلب کی بنیاد بھی رکھی ۔

انگلینڈ میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے دوران چونکہ کروم ویل کے ساتھ تعلقات اور رشتےداری ہونے کی وجہ سے اس کو کالج میں خدمات سے محروم کر دیا گیا اور اس نے اپنی باقی زندگی چرچ کی خدمت کرتے ہوئے گزاری ۔
اگرچہ خلا میں سفر کرنا اور چاند پہ جانا اسکی موت کے کئی صدیوں بعد ممکن ہوا مگر بلا شبہہ اس سوچ کو متعارف کروانے کا سہرا اس غیرمعروف برطانوی سائنسدان اور فلسفی کے سر ہی جاتا ہے ۔
( کتابوں کے نام اور تاریخ کا سورس وکی پیڈیا )

سحر عندلیب

About سحر عندلیب

سحر عندلیب خود اپنی تلاش اور دنیا کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ایک طالب علم ہیں۔ شعبہ تعلیم سے تو وابستہ ہیں مگر سمجھتی ہیں کہ ابھی بھی علم کے سمندر کا ایک قطرہ بھی حاصل نہیں کر سکیں بہت کچھ سیکھنا باقی ہے اس بلاگ پر اور دیگر کئی ویب سائٹس اور فیس بک گروپس میں سحر عندلیب کے مضامین باقاعدگی سے پوسٹ ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *