Home / فلکیات / پھیلتی کائنات اور بگ بینگ

پھیلتی کائنات اور بگ بینگ

پھیلتی کائنات کی نوعیت بہت سے لوگوں کو شش و پنج میں ڈال دیتی ہے۔ کرہ ارض سے دیکھا جائے تو لگتا ہے جیسے دور دراز کی کہکشائیں ہم سے دور ہٹ رہی ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زمین کائنات کا مرکز ہے۔ پوری کائنات میں یہ طرزِ پھیلاو اوسطاً ہر جگہ ایک جیسا ہے۔ ہر کہکشاں (بلکہ کہکشاوں کا جمگٹھا کہنا زیادہ مناسب ہو گا) دوسری سے دور ہٹ رہی ہے۔ اس عمل کا تصور یوں زیادہ بہتر کیا جا سکے گا اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ کہکشاوں کے جمگٹھے کے درمیان خلاء پھولتا جا رہا ہے۔

 

یہ کہنا کہ خلا پھیل سکتی ہے قدرے حیران کن ہو گا لیکن سائنسدان اس تصور سے 1915  سے آشنا ہیں۔

ایک سادہ تمثیل کی مدد سے مکاں(Space)کے پھیلاو کا یہ نظریہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے، فرض کریں کہ ایک ربڑکی ڈوری پر بٹنوں کی ایک قطار چسپاں ہے، اور یہ بٹن کہکشاوں کے جمگٹھوں کو ظاہر کر رہے ہیں، اب فرض کریں کہ آپ اس ڈوری کے سروں کو پکڑ کر کھینچتے ہیں، سارے بٹن ایک دوسرے  سے دور ہٹتے ہیں، آپ کسی ایک بٹن کا مشاہدہ کریں ، ارد گرد کے بٹن اس سے دور ہٹتے نظر آئیں گے، یعنی کہ پھیلاو ہر جگہ یکساں ہے اور کسی بٹن کو کوئی خصوصی مقام حاصل نہیں، یعنی کہ کوئی بٹن ایسا نہیں جس کے حوالے سے دوسرے بٹن ہٹ رہے ہیں، لیکن اگر بٹنوں سے مزین یہ ڈوری لامحدود لمبائی کی ہویا دائرے کی صورت میں ہو تو اس طرح کے نظری شائبے کی تفصیلات بیان کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

 

کسی ایک بٹن پر غور کریں، اس کا قریب ترین ہمسایہ اگلے قریب ترین ہمسائے بٹن کی نسبت نصف رفتار سے زیرغور بٹن سے دور ہٹے گا، کوئی بٹن حوالے کے بٹن سے جتنا دور ہو گا وہ اتنی ہی زیادہ رفتار سے پرے ہٹے گا۔

 

اب روشنی کی لہروں یا امواج پر غور کریں، جو ایک بٹن سے دوسرے کی طرف یعنی کہکشاوں کے ایک جمگٹھے سے دوسرے کی طرف سفر کر رہی ہےاور مکان وسعت پذیر ہے، یعنی پھیل رہا ہے۔

جب مکان پھیلتا ہے تو موجیں بھی پھیلتی ہیں، اس مظہر سے کائناتی سرخ تبدل کی وضاحت ہوتی ہے، ہبل نے معلوم کیا کہ سرخ تبدل کی مقدار فاصلے کے ساتھ راست متناسب ہے یعنی کہ کوئی کہکشاں کرہ ارض سے جتنی دور ہوگی اس کی روشنی میں پایا جانے والا سرخ تبدل اتنا ہی زیادہ ہو گا، یہ نتیجہ پیچھے دی گئی سادہ تمثیل کے عین مطابق ہے۔

 

اگر  کائنات پھیل رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ماضی میں اس کے اجزء زیادہ قریب رہے ہوں گے، ہبل کے مشاہدات سے شرح پھیلاو یعنی کہ پھیلاو کی رفتار نکالی گئی، اس شرح کی تصدیق بعد میں ہونے والے زیادہ مشاہدات سے بھی ہوتی ہے۔ اگر ہم کائناتی فلم کو الٹا چلا سکیں تو تمام کہکشائیں واپس ماضی بعید میں اس نقطے کی طرف جاتیں اور باہم مخلوط ہوتی نظر آئیں گی جہاں سے یہ چلی تھیں، موجودہ شرح پھیلاو کے علم سے ہم حساب لگا سکتے ہیں کہ کی کروڑوں سال پہلے یہ کہکشاں باہم ملی ہوئی تھیں لیکن درست حساب لگانے کی راہ میں دو مشکلات حائل ہیں،

ایک تو درست پیمائش لینا ہی مشکل ہے اور اس میں کئی طرح کی اغلاط ہو سکتی ہیں اور دوسرے ابھی تک توسیع یا پھیلاو کی درست رفتار میں بھی اتنا عدم تقین پایا جاتا ہے کہ یہ عموماً تسلیم شدہ قیمت سے دوگنی بھی ہو سکتی ہے جس سے قابلِ ذکر اختلافات جم لیتے ہیں۔

 

دوئم یہ کہ کائنات کے پھیلاو کی شرح وقت کے ساتھ مستقل نہیں رہتی ہے۔ شرح پھیلاو کے مستقل نہ ہونے کی وجہ کہکشاوں کے درمیان پائی جانے والی تجاذبی قوت ہے۔ یہ تجاذبی قوت  کائنات میں موجود مادے اور توانائی کی تمام اقسام کے مابین موجود ہے، قوت تجاذب بریکوں کی طرح عمل کرتے ہوئے اور باہر کی جانب لپکتی کہکشاوں کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے، نتیجہ کے طور پر وقت کے ساتھ ساتھ کہکشاوں کی رفتار کم ہوتی چلی جاتی ہے، اس سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ماضی میں کائنات اب کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہوگی۔

اگر ہم کائنات کا ایک خاص حصے کی جسامت کا وقت کے مقابل گراف کھینچیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اپنے آغاز میں کائنات بہت بھنچی ہوئی حالت میں تھی، پھر یہ تیزی سے پھیلی ، پھر کائنات کا حجم بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس میں مادے کی اوسط کثافت بہت تیزی سے کم ہوئی، اگر ہم اس خط خمیدہ کو کھینچ کر پیچھے کی ابتدا یعنی صفر وقت پر لے جائیں تو دیکھا جا سکتا ہے کہ اپنے لمحہ آغاز میں کائنات کا حجم صفر اور شرح پھیلاو لا محدود تھا، دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آج کہکشاوں میں موجود کُل مادہ ایک نقطے میں محدود تھا، یہ بگ بینگ نامی نظریے کا امثالی اور اصولی بیان ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتاب: آخری تین منٹ

مصنف: پال ڈیوئیس

ترجمہ: ارشد رازی

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *