Home / فلکیات / ٹرے پیزیم اورائین کے مرکز میں

ٹرے پیزیم اورائین کے مرکز میں

اورائین نیبولا کے بیچ و بیچ اس خوبصورت تصویر کے مرکز میں جو چار عدد شدید گرم اور بہت بڑے ستارے آپ کو نظر آرہے ہیں ان کو ٹریپیزیم (Trapezium) کہتے ہیں۔

ان کے بارے میں عجیب سی بات یہ ہے کہ یہ چاروں ستارے ایک دوسرے سے ڈیڑھ نوری سال کے رداس میں پھیلے ہوئے ہیں یہ ستارے اس نیوبلا کے کثیف مرکز کے سب سے نُمایاں اور پُراثر اجسام ہیں۔ یہ یاد رہے کہ ہماری کہکشاں میں ستاروں کا اوسطاً باہمی فاصلہ تقریباً چار نوری سال ہوتا ھے۔ لیکن یہاں ڈیڑھ نوری سال میں چار ستارے ہیں۔

ان ستاروں سے نکلنے والی الٹرا وائیولٹ شعاعیں، خاص طور پر ان میں سے سب سے روشن ترین ستارے (تھیٹا-1 اورائینس-سی) سے نکلنے والی شعاعیں، اس ستارہ ساز نیبولا سے آنے والی ساری روشنی کو جلا بخش رہی ہے۔

یہ ستارے کم و بیش تین ملین (تیس لاکھ سال) پُرانے ہیں، اپنے ابتدئی دور میں یہ نیبولا اور بھی زیادہ کثیف تھا، اور جدید تحقیق اس امکان کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ ممکن ھے کہ ماضی میں چند ستاروں کے باہمی ٹکراؤ سے یہاں کوئی بلیک ھول بن گیا ہو جس کا ماس ایک سو شمسی ماس کے برابر ہے یہاں بلیک ھول کی موجودگی ٹراپیزیم ستاروں کی مشاہدہ کردہ بہت زیادہ رفتار کی وضاحت کرتی ہے۔ اورائین نیبولا ہم سے ڈیڑھ ہزار نوری سال کی دوری پر ھے یوں اگر یہاں پر بلیک ھول دریافت ہوگیا تو یہ ہم سے قریب ترین بلک ھول ہوگا۔ اس سے قبل خیال تھا کہ ہم سے قریب ترین بلیک ھول 2800 نوری سال کی دوری پر ھے۔

ٹریپیزیم ستارے کسی بھی ستاروں کے مشاہدہ کرنے کے لئے کی گئی پارٹیوں (star gazing parties) میں سبھی کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں اور لوگ ان کو بہت شوق سے دیکھتے ہیں یہ بہت حسین لگتے ہیں اگر آپ کو کبھی موقع ملے تو ضرور ان کا مُشاہدہ کیجئے گا۔

 

اورائین کے نام کے بارے میں
اورائین کو اُردو میں کیا کہتے ہیں؟ کبھی خیال آیا کہ اس کو فارسی کے نام “شکاری” یا عربی میں مشہور “الجبار” یا پھر “جوزا” لکھوں۔ ہمارےدوست سُلطان صاحب کی مدد لی جنہوں نے مشورہ دیا کہ اس کو اورائین ہی لکھنا ٹھیک ھے، یہ مشورہ مجھے بہت مناسب لگا اس لئے اورائین ہی لکھ رہا ہوں ویسے اس کی اُردو میں املا “اورین” بھی بہت مقبول ھے۔ یہ نام یونانی دیومالائی داستانوں میں ایک شکاری کا ھے اور بعض لوگوں کو ان ستاروں کے جھرمٹ میں ایک شکاری نظر آتا ھے. اورائین کے برج میں ہی ایک بہت مشہور سُرخ رنگ کا ستارہ بھی جس کو بیٹلجوز کہتے ہیں جس کے متعلق خیال ھے کہ یہ کبھی بھی تباہ ہوسکتا ھے۔

 

ترجمہ اور تبصرہ: جرار جعفری

 

________________
حوالہ جات:یہ تحریر اے-پاڈ کی درج ذیل کی پوسٹ پر بُنیاد کی گئی:

https://apod.nasa.gov/apod/ap180805.html

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *