Home / فلکیات / ٹائیکو کے سپرنوا کی باقیات ایکسرز کی نظر سے

ٹائیکو کے سپرنوا کی باقیات ایکسرز کی نظر سے

سہیلی بوجھ پہیلی
پوسٹ کے آخر تک جانے سے، پہلے ذرا تھوڑی دیر کے لئے اس پر سوچیں اور کوشش کریں کہ ذیل میں دئے گئے سوال کا کوئی معقول سا جواب سوچیں۔

فرض کریں کہ آپ ایک اندھیری رات میں ایک صحرا میں گم ہوگئے ہیں اور یہ آپ کو معلوم ہے کہ بلب ہمیشہ ایک سو واٹ کے ہی بنتے ہیں۔ اور اس گھپ اندھیرے میں آپ کو دور دو بلب روشن نظر آرہے ہیں.

تو آپ کن بُنیادوں پر یہ فیصلہ کریں گے کہ کونسا بلب آپ سے قریب ہے؟

 

تصویر کی کہانی

یہ پھولا ہوا سا ایک گیند نُما گولا کس ستارے نے بنایا ہے ؟

یہ تصویر شدید گرم اور تیزی سے پھیلتے ہوئے ایک سُپر نوا کی باقیات کی ہے، اس نیبولا کو ٹائیکو کا سُپر نوا بھی کہتے ہیں۔ یہ ایک ستارے کے پھٹ جانے سے وجود میں آیا تھا جس کو پہلے پہل آج سے چارسو سال قبل مشہور ماہر فلکیات دان ٹائیکوبرائے نے ریکارڈ کیا تھا۔ یہ تصویر تین ایکسریز کی تصاویر کے مجموعے سے بنائی گئی ہے یہ تصاویر زمین کے گرد مدار میں معلق چندرا ایکسرے رصدگاہ نے لی ہیں۔

یہ تیزی سے پھیلتا ہوا گیس کا بادل بہت ہی شدید گرم ہے اور اس کی یہ پھولی ہوئی شکل اس لئے ہے کہ اس میں مختلف گیسیں مختلف سپیڈ سے پھیل رہی ہیں۔ اس سُپر نوا کو ایس-این 1572 بھی کہتے ہیں کہ یہ 1572 میں دریافت ہونے والا سُپر نوا تھا۔ اگرچہ وہ ستارہ جس کی وجہ سے یہ ایس-این 1572 بنا وہ مُکمل طور پر تباہ ہوچُکا ہے لیکن ایک اور ستارہ (ٹائیکو جی) جو بہت ہی مدہم ہے (لیکن ایک دوسری تصویر میں کچھ واضح ہے) کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس پھٹ جانے والے ستارے کا ساتھی ستارہ تھا۔ ٹائیکو کے سُپرنوا کے ساتھی کی باقیات کی تلاش خاص طور پر بہت اہم ہے کیونکہ یہ سُپر نوا ٹائیپ ون اے ہے جو کہ فاصلوں کی پیمائیش کرنے کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ یہ سُپر نوا ایک طرح سے اس ساری کائینات کی پیمائیش کرنے والے پیمانے کی فراہمی کرتا ہے۔ اس قسم کے سُپر نوا کی اصل خارج ہونے والی اینرجی کا ہمیں یقین سے علم ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہم دور دراز کی کائینات میں بھیلے مدہم اور دور نظر آنے والے ستاروں میں فرق کرسکتے ہیں اور یوں اُن کا فاصلہ ماپ سکتے ہیں

 

ٹائیپ ون-اے سُپر نوا
وہ جو پہلی تھی ناں، اُس کا کیا بنا؟

اگر آپ کا جواب تھا کہ بلب کی روشنی کے مدہم ہونے سے آپ اندازہ لگائیں گے کہ ان میں سے کون سا بلب دور یا نزدیک ہے۔ تو نوید ہوکے کہ آپ اب فلکیات کا علم سمجھنے کے قابل ہوچُکے ہیں۔ کیونکہ میری دانست میں فلکیات کا علم روشنی کے مطالعے سے دور دراز کے فاصلے معلوم کرنے کا علم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فلکیات میں سب سے اہم ترین پیمائیش فاصلے کی پیمائیش ہے اور اس کی اطلاع ہمارے پاس روشنی سے آتی ہے۔ ٹائیپ ون-اے سُپر نوا تب ہوتا ہے جب کسی سفید بونے ستارے کا ماس ڈیڑھ شمسی ماس سے یک دم کسی وجہ سے تجاوز کرجائے۔

ڈیڑھ شمسی ماس کی حد ایک لاہور میں جنم لینے والے ہندوستانی سائینسدان چندرا شیکھر نے اٹھارہ سال کی عمر میں معلوم کی تھی جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اگر ایک ستارہ تباہ ہوجائے اور اس کے بچ جانے والا ماس سورج سے ڈیڑھ گُنا سے کم ہو تو اس ستارے کے تمام ایٹموں کے الیکٹران اپنے تمام ممکنہ مداروں میں جگہہ پا کر ایک پریشئیر پیدا کرتے ہیں جس کو الیکٹران ڈیجینریسی پریشئیر کہتے ہیں۔ اور یہ پریشئیر اس بچ جانے والے ستارے کو روکے رکھتا ہے۔ لیکن اگر اس کا ماس اس حد سے تجاوز کرجائے تو گریوٹی کا پریشئر نیا نیوکلئر ریاکشن شروع کرتا ہے لیکن اس کو بیلنس کرنے کو کچھ ہوتا نہیں اور پورا کا پورا عین ڈیڑھ شمس ماس والا ستارہ ایک دھماکے سے پھٹ جاتا ہے اس کا خاص قسم کا اسپیکٹرم ہوتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ کائینات کے ہر کونے میں ہوتا ڈیڑھ شمسی ماس پر ہے۔

یہ تب ہوتا ہے جب ایک دوسرے کے گرد گھومتے دو ستاروں میں سے ایک تباہ ہوکے وائیٹ ڈوارف بن چُکا ہو یاد رہے اسکا ماس ڈیڑھ شمسی ماس سے کم ہی ہوگا لیکن آہستہ آہستہ یہ دوسرے ستارے سے مواد کی چوری شروع کردیتا ہے اور ایک دن اب اس وائیٹ ڈوارف کا ماس ڈیڑھ شمسی ماس سے بڑھ جاتا ہے اور یہ پورے کا پورا پھٹ جاتا ہے.

اب کیونکہ یہ ڈیڑھ شمسی ماس پورا کا پورا اینرجی میں بدل جاتا ہے اس لئے یہ اُس وقت ساری کہکشاں کے تمام ستاروں کی مجموعہ اینرجی سے بھی زیادہ اینرجی پیدا کرتا ہے جو کائینات کی سرحدوں تک سے دور بین سے دیکھی جاسکتی۔ اس لئے اس قسم کے سُپر نوا ہمارے لئے دور صحرا میں روشن ایک سو واٹ کے بلب کی طرح یہ یقین دلاتے ہیں اگر یہ مدہم ہے تو دور ہوگا پھر ہم ریاضی کے فارمولوں سے اس کا درست فاصلہ جونہی نکالتے ہیں تو علم کی دُلہن اپنا گھونگٹ اُٹھا کہ ہمیں اپنا دیدار کرواتی ہے۔

 

ٹائیکو براہے 
ٹائیکو براہے ڈینمارک کا ایک ماہر فلکیات تھا جس کازمانہ 1546 سے 1601 بنتا ہے۔ انہوں نے کوپرنیکس اور قدیم یونانی فلکیات کو ملا کے ایک ایسا نظام دیا جس میں سورج اور چاند تو زمین کے گرد گردش کرتے تھے لیکن باقی تمام سیارے سورج کے گرد گردش کرتے تھے۔ 1572 میں ٹائیکو نے آسمان پر ایک نیا ستارہ مُشاہدہ کیا جس کو اس نے لاطینی میں نوا سٹیلا (نیا ستارہ) کہا۔ آج کی مشہور اصطلاحات نوا اور سُپر نوا اسی سے بنی ہیں۔ اس دریافت نے ارسطو کے اس نظرئے میں دراڑیں ڈال دیں کے اجرام فلکی بدلتے نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ٹائیکو کا عظیم ترین کام یہ تھا کہ اس نے کئی دہائیوں تک آسمان کے مُشاہدوں کو جمع کیا اور ان کو سمجھنے کے لئے جوہانس کیپیلر کو نوکر رکھا جس نے اس ڈیٹا کی بُنیاد پر کیپلر کے تین قوانین وضع کئے جن قوانین کی نظریاتی تشریح کے لئے آئیزک نیوٹن نے ہمیں گریوٹی اور کیلکولس جیسے علوم سے مُتعارف کروایا۔

ٹائیکو براہے خاصہ عجیب قسم کا کردار بھی تھا۔ ایک دفعہ ایک شخص سے اس بات پر بحث ہوگئی کہ ریاضی میں ان دونوں میں سے کون بہتر ہے، پھر یہ طے پایا کہ اس اہم مسئلے کا فیصلہ تلوار بازی کر کے ہی ممکن ہے اس تلوارم تلوارا میں قبلہ اپنا ناک گنوا بیٹھے اور بقیہ عمر تانبے کی نقلی ناک لگا کر گُزار دی۔ ٹائیکو براہے کی موت اس لئے ہوئی کہ یہ بادشاہ کے حضور ایک محفل میں شراب میں دھت تھے لیکن احتراماً بادشاہ کی موجودگی میں پیشاب کرنے کو معیوب سمجھتے تھے اور لمبا عرصہ پیشاب روکے رکھنے سے مثانہ پھٹ گیا اور یوں فضول کی اس شاہانہ رسم اور بے جا کے احترام نے سائینس سے یہ ہیرا تب چھین لیا جب یہ ابھی پنتالیس برس کے ہی تھے۔

تحریر اور ترجمہ۔
جرار جعفری

حوالہ جات
_________

یہ پوسٹ ناسا کی ویب سائیٹ کی اس پوسٹ پر بُنیاد ہے
https://apod.nasa.gov/apod/ap190113.html

Image Credit: NASA / CXC / F.J. Lu (Chinese Academy of Sciences) et al.

Authors & editors: Robert Nemiroff (MTU) & Jerry Bonnell (UMCP)
NASA Official: Phillip Newman Specific rights apply.
NASA Web Privacy Policy and Important Notices
A service of: ASD at NASA / GSFC
& Michigan Tech. U.

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *