Home / اردو ادب / شاعری / وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانه (جگر مراد آبادی)

وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانه (جگر مراد آبادی)

وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانه
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتحِ زمانہ

کبھی حسن کی طبیعت نہ بدل سکا زمانہ
وہی نازِ بےنیازی وہی شانِ خسروانہ

تیرے عشق کی کرامت، یہ اگر نہیں تو کیا ہے
کبھی بےادب نہ گزرا مرے پاس سے زمانہ

تری دوری و حضوری کا ہے عجیب عالم
ابھی زندگی حقیقت ابھی زندگی فسانہ

میں وہ صاف کیوں نہ کہہ دوں ، جو ہے فرق، تجھ میں ، مجھ میں
ترا درد ، دردِ تنہا مرا غم ، غمِ زمانہ

ترے دل کے ٹوٹنے پر ہے کسی کو ناز کیا کیا
تجھے اے جگر مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

جگر مراد آبادی

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *