Home / اردو ادب / شاعری / نا سماعتوں میں تپش گھُلے نا نظر کو وقفِ عذاب کر(محسن نقوی)

نا سماعتوں میں تپش گھُلے نا نظر کو وقفِ عذاب کر(محسن نقوی)

نا سماعتوں میں تپش گھُلے نا نظر کو وقفِ عذاب کر
جو سنائی دے اسے چپ سیکھا جو دیکھائی دےاسے خواب کر

ابھی منتشر نا ہو اجنبی نا وصال رت کے کرم جتا
جو تیری تلاش میں گم ہوئے کبھی اُن دنوں کا حساب کر

میرے صبر کوئی اجر کیا میری دوپہر پر یہ ابر کیوں؟
مجھے اوڑھنے دے اذیتیں میری عادتیں نا خراب کر

کہیں آبلوں کے بھنور بجیں کہیں دھوپ روپ بدن سجیں
کبھی دل کو تھل کا مزاج دے کبھی چشمِ تر کو چناب کر

یہ ہجومِ شہرِ ستمگراں نا سنے گا تیری صدا کبھی
میری حسرتوں کو سخن سنا میری خواہشوں سے خطاب کر

سید محسن نقوی صاحب

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *