Home / اردو ادب / شاعری / میں سہوں کربِ زندگی کب تک (جون ایلیا)

میں سہوں کربِ زندگی کب تک (جون ایلیا)

میں سہوں کربِ زندگی کب تک
رہے آخر تری کمی کب تک

کیا میں آنگن میں چھوڑ دوں سونا
جی جلائے گی چاندنی کب تک

اب فقط یاد رہ گئی ہے تری
اب فقط تری یاد بھی کب تک

میں بھلا اپنے ہوش میں کب تھا
مجھ کو دنیا پُکارتی کب تک

خیمہ گاہِ شمال میں، آخر
اس کی خوشبو رچی بسی کب تک

اب تو بس آپ سے گلہ ہے یہی
یاد آئیں گے آپ ہی کب تک

مرنے والو ذرا بتاؤ تو
رہے گی یہ چلا چلی کب تک

جس کی ٹوٹی تھی سانس آخرِ شب
دفن وہ آرزو ہوئی کب تک

دوزخِ ذات باوجود ترے
شبِ فرقت نہیں جلی کب تک

اپنے چھوڑے ہوئے محلوں پر
رہا دورانِ جاں کنی کب تک

نہیں معلوم میرے آنے پر
اسکے کوچے میں لُو چلی کب تک

جون ایلیا

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *