Home / فلکیات / مریخ اور زمین کا لیپ ائیر

مریخ اور زمین کا لیپ ائیر

جب بھی29  فروری آتا ہے میں سوچتا ہوں کہ مجھے زندگی میں ایک دن اضافی ملا ہے یا مجھے ایک اضافی دن کام کرنا پڑا ہے؟میری زندگی میں ایک دن کا اضافہ ہوا ہے یا پھر یہ اُتنی ہی ہے جتنی پہلے تھی؟ مجھے اس 29فروری کا فائدہ ہوا یا نقصان ہوا ؟  ایسے ہی اور بہت سے سوال ذہن میں آتے ہیں ۔

 

زمین کا سورج کے گرد ایک چکر  365.2422 دن میں مکمل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب ہم نئے سال کا جشن شروع کر تے ہیں تب تک زمین نے اپنا چکر مکمل نہیں کیا ہوتااورابھی بھی ایک چکر مکمل ہونے میں تقریباً چھ گھنٹے باقی ہوتے ہیں۔ یہ چھ چھ گھنٹے مل کر کچھ صدیوں میں بہت بڑا فرق بن جاتے تھے۔ ہمارے موسم ہمارے مہینوں سے دور ہوتے جاتے تھے۔ تصور کریں اگر کچھ سال کے بعد دسمبر میں شدید گرمی اور جون جولائی میں برف باری ہو۔

اس سلسلے کو برابر رکھنے کیلئے ہم نے ہر چار سال کے بعد فروری میں ایک دن کا اضافہ کرنا شروع کیا اور اُس کو 29دن کا بنا دیا جس کو لیپ ائیر کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کچھ مسائل ابھی باقی ہیں، اوپر دئیے گئے نمبر کو ایک بار پھر دیکھیں۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ زمین کو 365.25 دن نہیں لگتے۔ اگر ایسا ہوتا تو چار سال کے بعد ایک دن کے اضافے کے بعد مسئلہ حل ہو جاتا مگر 365.2422کی وجہ سے کچھ اضافی وقت سال میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ ہر سو سال کے بعدآنے والے لیپ ائیر(صدی کا پہلا سال)      میں 28دن ہی رکھے جائیں بشرطہ کہ وہ 400 پر پورا پورا تقسیم نہ ہوتا ہو۔

مثال کے طور پر 1600  اور 2000 کو لیپ ائیر کہیں گے کیونکہ یہ 100  اور 400 پر بھی پورے پورے تقسیم ہو رہے ہیں ۔ جبکہ سال 1700,1800,1900,2100کو لیپ ائیر نہیں کہیں گے کیونکہ یہ 400پر پورے پورے تقسیم نہیں ہو پاتے۔

 

اس تھوڑی سی پیچیدگی والے حساب کتاب کے بعد  ہم نے کامیابی سےزمین کا لیپ ائیر نکال لیا مگر مستقبل کے وہ لوگ جو مریخ پر ٹھکانہ کریں ان کے لیے یہ حساب کتاب خاصامشکل ہونے والا ہے۔

مریخ کا ایک سال 668.6 مریخ دنوں کے برابر ہوتا ہے۔ اگر ہم مریخ کا ایک سال 668 یا 669 دنوں کا بنا لیں تو مریخ پر بھی موسموں کا وہی مسئلہ شروع وہ جائے گا جو زمین پر ہے۔  مریخ کیلئے کئی لوگوں نے مختلف کیلنڈر پیش کئے ہیں جن میں لیپ ائیر کے مسئلے کو بھی حل کیا گیا۔ ان میں سب سے مشہور کیلنڈر ’’ ڈائرن کیلنڈر‘‘ ہے۔

ڈائرن کیلنڈرکو 1985 میں تھامس گنگالے نے پیش کیا۔ اس میں مریخ کے سال کو چوبیس مہینوں میں پیش کیا گیا جس میں ہر ماہ میں 27یا 28دن ہوتے ہیں۔ مہینوں کے نام لاطینی اور سنسکرت zodiac signs  کے نام پر رکھے گئے تھے۔

لیپ ائیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے ڈاکٹر گنگالے نے یہ حل نکالا کہ جفت سال 668 دن جبکہ طاق سال میں 669دن ہونگے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر کوئی جفت سال 10پر پورا پورا تقسیم ہو جائے تو اُس میں بھی 669دن ہونگے۔  اس طرح اوسطاً ہر سال میں 668.6دن بنتے ہیں۔

 

ڈائرن کیلنڈر کے علاوہ   ’’ڈاکٹر ایلیس‘‘نے بھی مریخ کا ایک کیلنڈر متعارف کروایا۔ ڈاکٹر ایلیس نے اپنے کلینڈر کو 22   ماہ میں تقسیم کیا جس میں ہر ماہ 30,31دن کا ہو گا۔ بارہ مہینوں کا نام تو ویسا ہی ہے جیسا کہ زمینی کیلنڈر کا یعنی جنوری، فروری ، مارچ وغیرہ، جبکہ دیگر دس مہینوں کے نام مشہور فلکیات دانوں کے نام پر رکھے ۔ (کیلنڈر کا لنک تحریر کے آخر پر )

یہ کیلنڈر اس وجہ سے توجہ کا مرکز بنا کہ اس میں سردی، گرمی  اور بہار وغیرہ زمینی مہینوں کے حساب سے ہی آتے ہیں۔ مثال کے طور پر مریخ کا دسمبرسرد جبکہ جون گرم مہینہ ہوتا ہے۔

لیپ ائیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے ڈاکٹر ایلیس نے یہ حل نکالا کہ جو سال 5پر پورا پورا تقسیم ہو جائے گا اس سال فروری میں تین دن کا اضافہ کر دیا جائے گا۔ مطلب اُس سال فروری 31دنوں کا ہو جائے گا۔

 

اس کے علاوہ بھی مریخ کیلئے کچھ کیلنڈربنائے گئے ہیں مگر ابھی تک کوئی بھی کیلنڈر آفیشل مریخ کیلنڈر کے طور پر استعمال نہیں ہو رہا۔ آپ بھی کوشش کردیکھیں کہ شاید آپ ہی وہ خوش نصیب ہوں جس کا کیلنڈر مریخ پر رہے والے استعمال کریں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:

لیپ ائیر کے بارے میں

https://en.wikipedia.org/wiki/Leap_year

 

ڈائرن کیلنڈر کےبارے میں

https://en.wikipedia.org/wiki/Darian_calendar

 

ڈاکٹر ایلیس کا کیلنڈر

http://ops-alaska.com/time/allison/MPCrev067.pdf

 

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *