Home / اردو ادب / شاعری / مدت ہوئی ہے موت کو مہماں کیے ہوئے (عبدلحمید عدم)

مدت ہوئی ہے موت کو مہماں کیے ہوئے (عبدلحمید عدم)

مدت ہوئی ہے موت کو مہماں کیے ہوئے
ہستی کی مشکلات کو آساں کیے ہوئے

اب کیا درست ہونگے زمانے کے کاروبار؟
وہ آ رہے ہیں بال پرشاں کیے ہوئے

رخ سے نقاب ہٹا کی بڑی دیر ہو گئی
ماحول کو تلاوتِ قرآں کیے ہوئے

پھر اٹھ رہا ہے دل میں خرابی ولولہ
بازارِاحتیاط کو ویراں کیے ہوئے

پھر گرم خواہشات کا موسم ہے جوش پر
قطرے کو موج موج کو طوفاں کیے ہوئے

پھر آ رہی ہے بام پر خود بینیِ جمال
اک غمزدہ دوپہر کو درخشاں کیے ہوئے

پھر جا رہا ہوں سوۓ خرابات کو عدم
توبہ کی اس گمراہی کو مسلماں کیے ہوئے

جناب عبدلحمید عدم صاحب

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *