Home / اردو ادب / شاعری / قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں (اخترؔ ملک)

قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں (اخترؔ ملک)

قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں
سارے جھگڑے اَنا کے ہوتے ہیں

بات نیت کی ہے صرف ورنہ
وقت سارے دعا کے ہوتے ہیں

بھول جاتے ہیں ، مت برا کہنے
لوگ پُتلے خطا کے ہوتے ہیں

وہ جو بظاہر کچھ نہیں لگتے
ان سے رشتے بلا کے ہوتے ہیں

وہ ہمارا ہے اسطرح سے شاید
جیسے بندے خدا کے ہوتے ہیں

بخش دینا بھی ٹھیک ہے لیکن
کچھ سلیقے عطا کے ہوتے ہیں

کچھ کو دنیا بکھیر دیتی ہے
کچھ پریشاں صدا کے ہوتے ہیں

وہ جو ہستی میں ڈوب جاتے ہیں
اُن کے چرچے بلا کے ہوتے ہیں

اُس کی فطرت ہی ایسی ہے اخترؔ
جیسے تیور ہوا کے ہوتے ہیں

اخترؔ ملک

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *