Home / فلکیات / قابلِ مُشاہدہ کائینات

قابلِ مُشاہدہ کائینات

آپ کتنی دور تک دیکھ سکتے ہیں؟

فرض کر لیں کہ آپ کی آنکھیں ہمارے ارد گرد پھیلی تمام اقسام کی ریڈیشنز کو دیکھ سکتی ہیں یعنی، نارمل روشنی، انفرا ریڈ، الٹرا وائیولٹ، کاسمک مائیکرو ویوز، ایکس ریز، گیما ریز وغیرہ تو آپ جو کچھ بھی دیکھ سکتے ہیں، یا جو کچھ آپ کبھی بھی دیکھ سکیں گے اُس کے مجموعے کو “قابلِ مُشاہدہ کائینات” کہتے ہیں۔

روشنی کے ذریعے سب سے دورترین نظر آنے والے مظہرِ قُدرت کی اطلاع ہمیں “کاسمک مائیکرو ویوز” کا پس منظر پہنچاتا ہے یہ اطلاع ہمیں “13.8” بلین سال پہلے کے زمانے سے آتی ہے جب کائینات ایک دبیز دھند کی تہہ کی طرح غیر شفاف تھی۔ یہ تو ہوئی روشنی کے ذریعے آنے والی اطلاع اس کے علاوہ امکان ہے کہ ہمارے ارد گرد کچھ نیوٹرینو اور گریوٹیشنل ویوز ایسی بھی پھیلی ہوئی ہیں جو اس سے بھی پہلے کے زمانے سے آتی ہیں لیکن انسانیت کے پاس ان کو دیکھنے والی ٹیکنالوجی ابھی موجود نہیں ہے۔

مذکورہ تصویر تمام قابلِ مُشاہدہ کائینات کو ایک بہت ہی چھوٹی سطح پر واضح کررہی ہے اسطرح کہ زمین اور سورج اس کے مرکز میں اور نظام شمسی، قریبی ستارے، قریب اور دور کی کہکشائیں، اور ابتدائی مادے کی لڑیاں اور کاسمک مائیکرو ویوز کا پسِ منظر اس کے گرد یوں دکھایا گیا ہے کہ جیسے زمین ہی کائینات کا مرکز ہو۔

یہاں قابل توجہ امر یہ ہے کہ یہ نہیں کہا جارہا کہ زمین کائینات کا مرکز ہے بات یہ یے کہ آپ یہ سوچیں کہ اگر آپ کبھی کس صحرا میں گم ہوجائیں تو آپ کو یوں ہی لگے گا کہ چہار سمت سارا صحرا آپ سے مُساوی فاصلے تک پھیلا ہوا لیکن آپ صحرا کا مرکز نہیں ہیں بس یہی یہاں پر دکھایا گیا ہے۔ کائنات کے ہر سیارے، ہر کہکشاں سے دیکھنے والا کائینات کی ایسی ہی تصویر بنائے گا۔ اب اگر آپ کرکٹ کی گیند پر کوئی نشان لگائیں تو اس نشان سے سارا گیند ایسے ہی لگے گا جیسے یہی نشان گیند کا مرکز ہو ویسے ہی کائینات کا کوئی بھی شاہد اپنے ہرطرف کائینات کو یکساں طور پر پھیلا ہوا دیکھے گا۔

کونیاتی ماہرین (cosmologists) کا قیاس ہے کہ قابلِ مُشاہدہ کائینات ایک بہت بڑی کائینات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جس میں فزکس کے قوانین یہی قانون لاگو ہوتے ہیں جن کو ہم جانتے ہیں۔ لیکن اس تصور کے علاوہ بھی بہت سارے مشہور نقطہ نظر ہیں جو دراصل ہنوز محض قیاس آرائیاں ہی ہیں جو یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہماری کائینات ایک “کثیر الکائیناتی”
(Multiverse)
سسٹم کا حصہ ہے اس طرح کہ ان میں سے ہر کائینات میں فزکس کے کانسٹنٹس کی قیمتیں مُختلف ہیں، جہاں فزکس کے قوانین مُختلف ہیں، مزید بڑی ڈائیمنیشنز عمل میں ہیں یا ہماری کائینات سے بس ذرا سی مُختلف کائیناتیں امکان کی بُنیاد پر وجود رکھتی ہیں۔

حوالہ جات:
یہ تصویر اے-پاڈ ویب سائیٹ کی اس پوسٹ سے لی گئی ہے:
https://apod.nasa.gov/apod/ap180508.html
لائیسنس اور دیگر اطلاعات:
Illustration Credit & Licence: Wikipedia, Pablo Carlos Budassi

—————————————————

ترجمہ اور وضاحتیں
جرار جعفری

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *