Home / مستقل سلسلے / فلیٹ ارتھ چیک میٹ / فلیٹ ارتھ چیک میٹ سوال 14

فلیٹ ارتھ چیک میٹ سوال 14

زمین پر مختلف جگہوں سے سورج گرہن مختلف کیوں نظر آتا ہے؟

فلیٹ ارتھرز کے مطابق چاند گرہن حقیقت میں انوبس جو کہ ہندی فلکیات میں ایک شفاف فلکی جسم راہو اور کیتھو کے لیے بولا جاتا ہے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ انوبس نامی شفاف جسم جب چاند یا سورج کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے تو گرہن شروع ہو جاتا ہے۔

یہ بڑی  عجیب سی صورتحال ہے۔ اس کنسپٹ پر کئی سوالات ذہن میں آتے ہیں مثلا اگر انوبس ایک شفاف جسم ہے تو یہ چاند یا سورج کو کالا کیسے کر دیتا ہے ۔ شفاف کہنا فلیٹرز کی مجبوری ہے کیونکہ اگر شفاف نہ کہیں تو پھر گرہن کے علاوہ بھی انوبس کو نظر آنا چاہے۔ خیر کافی سارے سوالات ہیں مگر ان پر پھربات ہو گی۔

اس وقت سوال یہ ہے کہ اگر انوبس چاند یا سورج کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے تو پھر زمین پر مختلف جگہوں سے گرہن مختلف کیوں نظر آتا ہے اور کچھ علاقوں سے بالکل نظر ہی نہیں آتا۔

آپ اوپر دی گئی تصویر کو دیکھیں، یہ ڈیٹ اینڈ ٹائم  ڈاٹ کام سے لی گئی ایک تصویر ہےجس میں 2جولائی 2019کو ہونے والے ایک سورج گرہن کی تفصیل دیکھائی گئی ہیں کہ کہاں کہاں سورج گرہن نظر آئے گا۔ ارجنٹینا  اور چلی میں مکمل سورج گرہن ہو گا،  برازیل اور پیراگوئے وغیرہ میں جزوی سورج گرہن ہو گا جبکہ کینیڈا ، امریکہ ، میکسیکو اور کئی ایک دیگر جگہوں پر سورج گرہن سرے سے نظر ہی نہیں آئے گا۔

عجیب بات نہیں ہے کہ اگر انوبس گرہن کے دوران سورج و چاند کو اپنی لیپٹ میں لے لیتی ہے تو پھر تو پوری فلیٹ زمین پر ایک ہی طرح کا سورج و چاند گرہن نظر آنا چاہیے۔  چاند کے ساتھ بھی کچھ ایسے ہی معاملے جڑے ہیں ۔

 

میں نے ایک فلیٹ ارتھ کے گروپ میں ایک پوسٹ دیکھی تھی تو کافی حیران ہوا تھا۔ پوسٹ کا متن تھا کہ   ’’اکیلا چاند ہی پورے گلوب ماڈل کو فلاپ کرنے کیلئے کافی ہے’’   جبکہ معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے۔ چاند کو فلیٹرز کسی بھی طرح سے ٹھیک سے فلیٹ زمین پر فٹ نہیں کر پا رہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ اس کی اپنی روشنی ہے تو کبھی کہتے ہیں کہ چاند ٹھوس نہیں ہے۔

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *