Home / فلکیات / سی فئیڈ آر-ایس پپ (RS Pup) ستارہ

سی فئیڈ آر-ایس پپ (RS Pup) ستارہ

اس تصویر کے مرکز میں آسمان پر سب سے اہم ترین ستارہ دکھایا گیا ھے۔ یہ اہم اسلئے بھی ہے کہ اتفاق سے اس ستارے کو ایک نہایت شاندار نیبولا گھیرے ہوئے ہے۔ مرکز میں گھٹتا بڑھتا ہوا ایک نہایت روشن ستارہ آر-ایس پپیز (RS Pup) ھے جو سورج سے کم و بیش دس گُنا زیادہ ماس رکھتا ھے اور اوسطاً سورج سے کوئی پندرہ ہزار گُنا زیادہ چمکدار ہے۔ در حقیقت یہ ستارہ چمک میں گھٹتے بڑھتے ستاروں کی ایک خاص قسم “سی فیئڈ” قسم کا ستارہ ہے۔ یہ ستاروں کی ایک ایسی قسم ہے جن کی چمک قریبی کہکشاؤں تک کے فاصلوں کو معلوم کرنے کے لئے استعمال ہوتی ھے۔ اور یوں یہ ستارے کائیناتی فاصلوں کی مُتفقہ سکیل قائیم کرنے کی طرف پہلا قدم بنتے ہیں۔

اس ستارے کی چمک چالیس روزہ دورانئے میں گھٹتی بڑھتی رہتی ہے، اس کی چمک میں ہونے والی تبدیلی کو اس کے گرد پھیلے نیبولہ کے ساتھ ساتھ بھی دیکھا جاتا ھے جو عملاً روشنی کی بازگشت ھے۔ روشنی کی بازگشت ایک مظہر فطرت ھے جو صرف فلکیاتی فاصلوں میں ہی مُشاہدہ میں آتا ھے یہ تب ہوتا ھے جب کسی ستارے کی روشنی کسی دور کے جسم کی سطح سے مُنعکس ہو کر ہم تک قدرے دیر سے پہنچے یہ بالکُل ویسے ہی ھے جیسے کسی پہاڑ میں آواز کی گونج۔

اب اس ستارے کی روشنی، اس کی روشنی کی بازگشت کے پہنچنے کی تاخیر، نیبولا کے سائیز اور روشنی کی رفتار کے استعمال سے جیومیٹری کے مصدقہ اصولوں کے ذریعے ماہرین آر-ایس-پپ تک کا درست فاصلہ خاصے یقین کے ساتھ ساڑھے چھ ہزار نوری سال تک بتا سکتے ہیں جس میں نوے نوری سال کی کمی بیشی کا امکان موجود ہے۔ یہ فلکیات، جس میں فاصلے بیحد عظیم الشان ہوتے ہیں، کے لئے ایک بہت بڑی اور اہم کامیابی ھے۔ اس روشنی کی بازگشت سے اس ستارے کا ماپا ہوا فاصلہ اس کی چمک کی پیمائیش کو مذید حتمی طور پر قائیم کرتا ھے اور یوں ہم دیگر سی فئیڈ ستاروں کی چمک کے بارے میں اور یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ کیا ہیں جس سے ہمارا دور دراز کی کہکشاؤں تک کے فاصلے کا علم مذید بہتر ہوتا ھے۔ یہ تصویر ھبل ٹیلی اسکوپ سے لی گئی تھی۔

 

ایک وضاحت
اس پوسٹ میں آر-ایس پپ نامی ستارے کو آسمان پر سب سے اہم کہا گیا ھے۔ جو یقیناً ایک ذاتی رائے ہے۔ لیکن اس کی اہمیت سے انکار ممکن اس لئے نہیں کہ اس ستارے کا درست فاصلہ ایک یقین کے ساتھ ماپنا ایک بہت اہم مسئلہ ھے اس لئے کہ یہ ستاروں کی جس قسم سے ہے اُس کو سی فئیڈ کہا جاتا ھے اور ان ستاروں کی چمک کے باہمی موازنے سے کائینات کی دور دراز کی کہکشاؤں کے فاصلے ماپے جاتے ہیں۔ اب کیونکہ دور دراز کی کہکشاؤں میں موجود سی فئیڈ ستاروں کی چمک کا موازنہ آر-ایس پپ سے کیا جاتا ھے جس سے پھر اس ستارے کے فاصلے کی نسبت سے فاصلے نکالے جاتے ہیں اس لئے اس فاصلے کی دُرست پیمائیش بیحد ضروری ھے اس لئے یہ سب سے اہم ستارہ ھے۔

 

سےفئیڈ (Cepheid) ستارے کیا ہوتے ہیں؟
سی-فئیڈ ستارہ ایک ایسا ستارہ ہوتا ھے جس کا قُطر اور ٹیمپیرچر ایک تسلسل کے ساتھ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے اس تبدیلی سے ان ستاروں کی ظاہری چمک میں فرق پیدا ہوتا ھے جس کا دورانیہ بہ آسانی معلوم کیا جاسکتا ھے۔

آر-ایس پپ ستارے کے لئے یہ دورانیہ کوئی چالیس دن ھے۔ یعنی اگر آپ جنوبی کُرے میں ہوں اور دوربین سے اس ستارے کو چالیس دن مُسلسل دیکھتے رہیں تو اس میں آپ اس کی چمک کو پانچ گنا زیادہ اور کم ہوتا مُشاہدہ کرسکیں گے۔

سی فئیڈ ستاروں کو 1784 میں جان گوڈریک نے سب سے پہلے دریافت کیا۔ کیونکہ اس قسم کا پہلا ستارہ جس کا مُشاہدہ کیا گیا اُس کا نام ڈیلٹا سی-فائی تھا اس لئے اس نام سے ان ستاروں کی قسم کو سی-فئیڈ کہا گیا.

 

سی فئیڈ ستاروں کی چمک گھٹتی بڑھتی کیوں ھے؟
سی-فیڈ ستاروں کی اس چمک کی وجہ کو سمجھنے کے لئے ضروری ھے کہ پہلے ھیلیم گیس کے بارے میں کچھ سمجھا جائے۔ دُہری آئیونائیزڈ ہیلیم (Doubly ionized helium) اس حالت میں ھیلیم کے دونوں الیکٹران غائیب ہوتے ہیں جس سے مثبت چارج والا نیوکلیس رہ جاتا ھے۔ اکہری آئیونائیزڈ ہیلیم (Singlly ionized helium)اس حالت میں ھلیم کا ایک الیکٹران غائیب ہوتا ھے۔ اب مُشاہدہ یہ ھے کہ دُہری آئیونائیزڈ ہیلیم غیر شفاف ہوتی ھے یعنی اس میں سے روشنی کا گُزر نہیں ہوسکتا۔

اب جب ھیلیم کو بہت زیادہ گرم کیا جاتا ھے تو یہ دونوں الیکٹران کھو دیتی ھے جس سے یہ زیادہ غیر شفاف بن جاتی ھے جس سے یہ ستارے سے نکلنے والے حرارت کو جذب کر کے روک لیتی ھے جس سے یہ مدھم ہوجاتا ھے لیکن اس روکنے کے عمل سے ستارے کی ریڈیشن کے پریشر سے ہلیم کی یہ تہہ پھیلنے لگتی جس سے ٹیمیریچر گرنے لگتا ھے جس سے ھلیم اب اکہری آئیونائیزڈ حالت میں قائیم رہ سکتی ہے، جو شفاف ہونے کی وجہ سے روشنی کی اخراج کا سبب بنتی ھے جس سے ستارہ بہت روشن ہوجاتا ھے۔

اس طرح سے گھٹنے بڑھنے کا عمل باقاعدگی سے قائیم رہتا ھے جس کا دورانیہ ایک دفعہ معلوم کرلیا جائے تو پھر اس عمل کو باقاعدگی سے مُشاہدہ کیا جسکتا ھے۔ اس طرح اور اس وجہ سے گھٹتے بڑھتے ستاروں کو سی-فیئڈ ستارے کہا جاتا ھے۔

 

ہینری ایٹا سوان لیوٹ اور ان کا کام
بیسویں صدی عیسوی جب آئین شٹائین اور میکس پلانک جیسے زُعمائے سائینس نے موجودہ فزکس کی نئی بُنیادیں رکھیں تو انسانیت ہنوز اُس مقام پر تھی کہ خواتین کے لئے سائینس جیسے فیلڈ میں کام کرنے کے مواقع بہت ہی کم تھے۔ اُس دور میں ھارورڈ یونیورسٹی کے فلکیات اور فزکس کے پروفیسر حضرات سستی مزدوری اور لمبے اور تھکا دینے والے حساب کتاب کے لئے عورتوں کو ملازم رکھا کرتے تھے یہ مردوں کی نسبت بہت کم پیسوں میں کام کرنے کو تیار ہوجاتی تھیں اور بُرد باری سے محنت سے کام بھی کرتی تھیں۔ ان خواتین کو کمپیوٹر کہا جاتا تھا۔ کیونکہ ان کا کام بس بغیر سوچے سمجھے حساب کتاب کرنا ہوتا تھا۔

ایسے ہی ایک پروفیسر صاحب تھے چارلس پیکرنگ جنہوں نے جنوبی کرے میں خالی آنکھ سے نظر آنی والی ملکی وے کی ایک سیٹلائیٹ کہکشاں لارج میجلینک کلاؤڈ میں ستاروں کی درجہ بندی کا کام ایک خاتون کمپیوٹر کو دیا جن کا نام تھا “ھینری ایٹا سوان لیوٹ” یہ خاتون فلکیات میں اپنی ماسٹرز کی ڈگری مکمل تو نہ کرسکیں لیکن ھاروڈ میں پیکرنگ نے ان کو کمپیوٹر کے طور پر ملازمت دے دی۔ اس دوران جو دریافت ان خاتون نے کی اُس کی چھاپ کائینات کی سرحدوں کی پیمائیش سے لیکر ڈارک اینرجی کی موجودگی تک کی پیمائیشوں پر ھے۔

یہ دن، رات بیٹھ کے فوٹو گرافک پلیٹس کا مطالعہ کیا کرتی تھیں اور اس گہرے مطالعے سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سی-فئیڈ ستاروں کے گھٹتے بڑھنے کے دورانیہ کا براہ راست تعلق ان کی حقیقی چمک کے ساتھ ھے۔ یعنی جتنا یہ دورانیہ زیادہ ہوگا ستارہ اپنے سب سے زیادہ چمک والے مقام پر اُتنا ہی زیادہ چمکیلا بھی ہوگا۔

اب اس اصول کی اہمیت ذرا دیکھئے۔ آپ ایک دور دراز میں کسی کہکشاں میں سی-فئیڈ ستارے کو تلاش کیجئے، جس کی نشاندہی اس کی روشنی کے خاص گراف سے بہ آسانی ہوجاتی ھے، اس کے گھٹتے بڑھنے کا دورانیہ معلوم کیجئے ھینری ایٹا سوان کے بنائے گئے گراف سے اس کی حقیقی چمک معلوم کیجئے اس سے اب اس آنے والے ستارے کی اینرجی نکالی جاسکتی پھر ایک ایسا سی-فئیڈ ستارہ جس کا فاصلہ ہمیں یقین کے ساتھ پہلے سے معلوم ہوتا ہے اس کی اینرجی کے ساتھ موازنے کے ذریعے ریاضیاتی فارمولا کے استعمال سے یہ معلوم کیا جاسکتا ھے کہ اس دوردراز کے ستارے کا فاصلہ زمین سے کتنا ھے۔

اوپر بتائے گئے ستارے کو اس لئے سب سے اہم کہا گیا ھے کہ اس سی-فئیڈ ستارے کا فاصلہ اب روشنی کی بازگشت والے نئے طریقہء کار سے اور بھی یقین کے ساتھ معلوم کرلیا گیا ھے جس سے موازنے کی بُنیاد پر نکالے گئے فاصلے اور زیادہ یقین ہوجائیں گے۔

 

نوبل انعام: ایک زیادتی کی داستان
اوائیل بیسویں صدی میں ھبل نے جب پہلی دفعہ ثابت کیا کہ دور دراز کے بادل نما جھرمٹ دراصل ملکی-وے جیسی کئی اور کہکشائیں ہیں تو یہ ثابت کرنے کے لئے اس نے ھینری ایٹا سوان لیوٹ کا دیا گیا طریقہ استعمال کرکے ہی انڈرومیڈا میں موجود سی-فیئڈ ستاروں کے معلوم سی-فیئڈ ستاروں کے ساتھ موازنے سے فاصلہ نکالا تھا۔ جب یہ تہہ ہوگیا کہ انڈرومیڈا ایک الگ سے کہکشاں ھے تو ھبل نے ھینری ایٹا سوان لیوٹ کے لئے ایک باقاعدہ ناکام مہم چلائی کہ ان کو نوبل انعام ملے۔

ھینری ایٹا 1921 کے آخر میں کینسر سے فوت ہوگئیں، قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ 1926 میں ایک سویڈش ریاضی دان نے ان کا نام نوبل انعام کے لئے پیش کرنے کے لئے اس کے ڈیمارٹمنٹ کے ہیڈ کو ایک خط لکھا جس کے جواب میں اس کو بتایا گیا کہ ھینری ایٹا فوت ہوچُکی ہیں، اور نوبل انعام بعد از وفات نہیں دیا جاتا۔

 

ترجمہ اور تبصرہ: جرار جعفری

_____________________________________
حوالہ جات:یہ تحریر اے-پاڈ کی درج ذیل کی پوسٹ پر بُنیاد کی گئی:

https://apod.nasa.gov/apod/ap180829.html

Authors & editors: Robert Nemiroff (MTU) & Jerry Bonnell (UMCP)
NASA Official: Phillip Newman Specific rights apply.
NASA Web Privacy Policy and Important Notices
A service of: ASD at NASA / GSFC
& Michigan Tech. U.

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *