Home / فلکیات / سُپرنوا 1994 ڈی اور غیرمتوقع کائینات

سُپرنوا 1994 ڈی اور غیرمتوقع کائینات

زمانوں پہلے بہت ہی دور ایک ستارہ تباہ ہوا، اس کو سُپر نوا 1994ڈی کہتے ہیں یہ تباہی اس تصویر میں کہکشاں این-جی-سی 4526 سے قدرے باہر کی طرف بائیں جانب نیچے کی طرف ایک روشن نشان کی صورت میں نظر آرہی ہے۔

سُپر نوا 1994ڈی کی سب سے دلچسپ بات یہ نہیں تھی کہ یہ دوسرے سُپر نووں سے کتنا مُختلف ھے بلکہ اس میں دلچسپی کا پہلو یہ تھا کہ یہ دوسرے سُپر نووں سے کسقدر مُشابہ تھا۔ در حقیقت اس کی تباہی کے بعد سے خارج ہونے والی روشنی کے مطالعے سے اس کو ٹائپ ون اے سُپر نوا (type 1a suprnova) قرار دیا گیا۔ اگر تمام ٹائپ ون اے قسم کے سُپر نوا کی حقیقی چمک یکساں ہو تو اس قسم کا جو سُپرنوا جتنا مدھم ہوگا اُتنا ہی دور بھی ہوگا۔ اس معیار کی بُنیاد پر درست چمک اور فاصلے کے تعلق کے تعین کے بعد ماہرین فلکیات نہ صرف اس سے کائینات کے پھیلاؤ کی شرح (جس کی خبر ھبل کے کانسٹنٹ سے ملتی ہے) کا اندازہ لگا سکتے ہیں بلکہ اس سے کائینات کی جیومیٹری (جو کہ اومیگا اور لمبڈا سے متعین ہوتی ہے) کا بھی تعین ہوتا ھے۔

اس قسم کے سُپر نووں سے نہایت دور دراز کے فاصلوں کی پیمائیش کی جاتی ہے جن کو جب ہم دیگر مذید مشاہدات سے ملا کے دیکھتے ہیں توہمیں یہ خبر ملتی ہے کہ ہم ایک غیر متوقع قسم کی کائینات میں آباد ہیں۔

 

دور دراز کے فاصلے
اب ہم ایک ظاہراً غیر متعلقہ بات کرتے ہیں۔ فلکیات میں جو بھی کام ہوتا ھے اس میں سب سے اہم ترین کام اجرام فلکی کا زمین سے فاصلہ ماپنا ہوتا ھے اس کے لئے مُتعدد طریقے وضع کئے گئے ہیں فاصلے کی پیمائیش اس قدر اہم ہے کہ بعض اوقات میں لوگوں کو فلکیات کی تعریف یوں بتاتا ہوں کہ وہ علم جس میں فاصلے ماپنے پر قدرت حاصل کی جاتی ھے۔ فاصلے سے ہی ستاروں کی چمک، انکا ماس، انکی عمر وغیرہ معلوم کی جاتی ھے۔

 

ایک عام فہم مثال:
اگر آپ کے پاس دو بلب ہوں اور دونوں ہی ایک سو واٹ کے ہوں (ہم اپنے اس تصوراتی تجربے کےلئے یہ فرض کرلیتے ہیں کہ دونوں بلب بالکُل صحیح کام کررہے ہیں) اور رات کو آپ کہیں دور سے ان کا مُشاہدہ کررہے ہوں.

ان میں سے اگر ایک بلب آپ کو دوسرے سے مدھم لگے تو آپ اس مُشاہدے سے کیا نتائیج اخذ کریں گے؟ آپ اس تحریر کو پڑھنا بند کریں اور دو چار منٹ کے لئے اپنی سوچ کے گھوڑوں کو بے لگام چھوڑ دیں اور سوچیں۔

ممکن ہے آپ اس نتیجے پر پہنچے ہوں کہ جو بلب مدھم ھے وہ دوسرے سے دوری پر ھے اگر ایسا ھے تو آپ نے فلکیات میں دور دراز کا فاصلہ ماپنے کا راز جان لیا ھے۔ کیونکہ روشنی کی شدّت فاصلے کے مربعے کے لحاظ سے بدلتی ہے اس کی بُنیاد پر اگر آپ دونوں بلبوں کی شدّت کو ماپ سکیں تو فاصلہ معلوم کرنا کوئی بڑا کام نہیں ہوگا۔

لیکن اگر آپ کو یہ علم نہ ہو کہ دونوں بلب ایک سو واٹ کے تھے تو پھر؟ یعنی یہ بھی تو ممکن ھے کہ دونوں بلب ساتھ ساتھ ہی رکھے ہوں لیکن ایک کم واٹ کا ہو، اس طرح کہ ظاہراً وہ نظر مدھم آئے لیکن ہوں دونوں ہی ایک سے فاصلے پر۔ اس پر فی الوقت یہی کہوں گا کہ یہ بات آپ کی درست ھے۔

کائینات میں دور دراز کے فاصلے اسی طریقے سے ماپے جاتے ہیں کہ پہلے ایسے اجسام تلاش کئے جائیں جن کے بارے میں ہمیں معلوم ہو کہ یہ ہمیشہ ایک جتنی اینرجی ہی پیدا کرتے ہیں تو پھر ان کے مدھم و روشن ہونے سے ہم ان کا فاصلہ ماپ لیں۔

ٹائیپ ون-اے سُپر نوا فلکیات کا وہ ایک سو واٹ والا بلب ھے جو کہیں بھی چمک رہا ہو تو اس کی ظاہری چمک سے ہم اس کا فاصلہ معلوم کرسکتے ہیں۔ یہ کائنات کے کسی کونے میں بھی ہو اس کی اینرجی کا اخراج ہمیشہ یکساں ہوتا ھے.

 

ٹائیپ ون-اے سُپر نوا آخر ہے کیا؟
جب ایک ستارہ تباہ ہوتا ھے تو باقی بچ جانے والے مواد کے ماس پر اس کا انحصار ھے کہ اس کے ساتھ اب ہوگا کیا۔ اگر تو باقی بچ جانے والے ستارے کے مواد کا ماس 4۔1 شمسی ماس سے کم ہو تو اس میں موجود کاربن اور آکسیجن کے ایٹموں کے تمام الیکڑان تمام ممکنہ لیول پر آکر (اس کا سبب پاؤلی کا اصول ھے) ایک ایسی حالت پیدا کردیتے ہیں کہ ستارے کے پاس گریوٹی کی وجہ سے اتنی اینرجی نہیں ہوتی کہ ان الیکٹرانوں کو دھکیل کے نیوکلئس میں گرا سکے اس حالت میں یہ سارا بچ جانے والا ستارہ کاربن کی وجہ سے ایک عظیم الہیت ہیرے کی مانند اسپیس میں معلق ہوتا ھے۔ اس کو سفید بونا “White dwarf” ستارہ کہتے ہیں۔ یہ ستارہ اس حالت میں مذید متعدد ٹرلین سالوں تک آہستہ آہستہ اپنی حرارت کو خلاء کی سردیوں میں خرچ کردیتا ھے اور بالآخر ایسی حالت کو پہنچ جاتا ھے کہ سب حرارت ختم ہو جاتی ھے اور یہ ایک نہ نظر آنے والے گیند نُما ھیرے کی طرح ابد تک رہے گا جب ایک سفید بونا ستارہ اس حالت کو پا جائے تو اس کو سیاہ بونا “Black dwarf” کہتے ہیں ہمارے سورج کا مقدر بھی یہی ہے کہ یہ ایک دن سیاہ بونا بن جائے گا۔

کائینات میں اکثرو بیشتر ستارے اکیلے نہیں ہوتے یہ عموماً دو یا دو سے زیادہ ہوکر ایک دوسرے کے گرد محو گردش ہوتے ہیں۔ ان میں سے جو ستارہ ماس کے لحاظ سے بڑا ہوتا ھے وہ پہلے تباہ ہوکر فنا ہوجاتا ھے اور جیسا کہ اُوپر بتایا گیاھے اگر اس کے تباہی سے بچ جانے پر ماس 4۔1 شمسی ماس سے کم ہوتو یہ سفید بونا بن جائیگا۔ تو یوں بچ جانے والے اس سسٹم میں ایک نہایت روشن ستارہ اور ایک سفید بونا ستارہ آپ کی نگاہوں کو اک “عجب ساعت دید”** دے رہا ہوگا۔

اگر آپ کے پاس ایک سادہ سی دور بین ہو تو آپ آسمان پر روشن ترین ستارے (سرئیس) کا مُشاہدہ کیجئے ذرا غور سے دیکھنے پر آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کے گرد ایک چھوٹا سا نقطہ بھی ہے یہ نقطہ دراصل ایک سفید بونا ستارہ ھے جو قرن ہا قرن قبل تباہی سے گزر کر اب سردیوں میں ڈھل رہا ہے۔

آج تک فلکیات میں کوئی ایسا سفید بونا مُشاہدہ نہیں کیا گیا جس کا ماس 4۔1 شمسی ماس سے زیادہ ہو۔ یہ ایک اہم بات ھے اس کو ذہن میں رکھئے گا۔

سفید بونے ستاروں میں فیوژن بند ہوچکی ہوتی ہے اور یہ کاربن کی زیادتی کی وجہ سے ایک زمین کے سائیز کا ھیرا بن چُکے ہوتے ہیں۔ ان میں کوئی ھائیڈروجن یا ھلیم اب موجود نہیں ہوتی یہ کروڑ ہا سال تک فیوژن سے دہکنے کی وجہ سے کئی ٹرلین سال تک تھوڑی تھوڑی حرارت خارج کرتے رہیں گے۔

اب دو ستاروی نظاموں میں بعض اوقات ایسا ممکن ہوتا ھے کہ سفید بُونا ستارہ گردش کرتے کرتے دوسرے ستارے کے اتنا قریب آجائے کہ یہ آہستہ آہستہ دوسرے ستارے سے مواد کھینچنا شروع کردے ( یہ عموماً اُس مقام پر ہوتا ھے جس کو تکنیکی طور پر ایل-1 لاگرنج L1 Lagrangian point مقام کہتے ہیں) اب یہ ایک مسئلہ ہے کیونکہ اس سے اس کا ماس بڑھنا شروع ہوجائے گا۔

4۔1 شمسی ماس کی حد کو “چندرا لمٹ” کہتے ہیں اس حد تک ایلکٹران گریوٹی کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیتے لیکن جونہی دوسرے ستارے سے مواد کی چوری کرتے کرتے سفید بونے کا اپنا ماس 4۔1 شمسی ماس سے بڑھتا ھے تو اس میں حرارت بڑھنے سے کاربن کی فیوژن شروع ہوجاتی ھے لیکن ایک بہت بڑا مسئلہ ھے اس فیوژن کے پریشیئر کو روکنے کے لئے کچھ اور موجود نہیں ہے اس لئے یہ فیوژن لمحہ بھر میں سارے ستارے میں پھیل جاتی اور یہ ستارہ ایک ھولناک دھماکے ( جسے thermonuclear runaway کہتے ہیں) کے ساتھ سارے کا سارا کلیتاً اینرجی میں بدل جاتا ھے یہ وقوعہ اس قدر چمکدار ہوتا ہے کہ چند ایک لمحوں کو یہ تمام کی تمام کہکشاں سے بھی زیادہ اینرجی پیدا کرتا ھے۔ اور یہ کائینات کی آخری حدوں پر بھی ہو تو دور بین سے دیکھا جاسکتا ھے۔

 

اب اس میں اہم باتیں یوں ہیں

1- اس دھماکے کا خلاء میں ایک مخصوص دستخط ہوتا ھے – یعنی اس میں ھائیڈروجن اور ھلیئم سرے سے ہوتی ہی نہیں.

2- اس کے بعد ستارے کا کچھ بچتا نہیں ھے، جہاں یہ دھماکہ ہوتا وہاں دیگر سُپر نوا کے برخلاف کچھ ملتا نہیں سوائے تیزی سے پھیلتے ہوئے مواد کے۔

3۔ یہ محض اور محض 4۔1 شمسی ماس پر وقوع پذیر ہوتا ھے۔

4۔1 شمسی ماس کی قید کی وجہ سے ہم اس کی اصل خارج ہونے والی اینرجی کا حساب لگا لیتے ہیں پھر اس کی ظاہری چمک سے ہم یہ معلوم کرلیتے ہیں کہ یہ واقعہ کس دوری پر ہوا یہ تبھی ممکن ھے کہ جب ہمیں یقین ہو کہ یہ ٹائیپ ون-اے سُپر نوا ھے۔ یوں فلکیات میں نہایت دور دراز کی کہکشاؤں کے فاصلے ماپے جاتے ہیں اس قسم کے فاصلوں کی پیمائیش سے 1998 میں معلوم ہوا تھا ہماری کائینات میں ڈارک اینرجی ھے جو ہماری کائینات کے لئے موجبِ اسراع ھے.

ویسے یاد رہے کہ سیرئیس ستارے کا ساتھی سفید بونا ستارہ کبھی بھی اس قسم کے دھماکے سے نہیں پھٹے گا کیونکہ اس کے سیرئیس کے اتنا قریب ہونے کا کوئی امکان نہیں ھے۔

ترجمہ و تبصرہ
جرار جعفری
————-

حوالہ جات:
1) https://apod.nasa.gov/apod/ap150531.html
Image Credit: High-Z Supernova Search Team, HST, NASA

مزید حوالہ جات:
2) https://www.youtube.com/watch?v=p7vUoUpRZJk
3) What is Omega:http://casswww.ucsd.edu/arch…/public/tutorial/Cosmology.html
4) What is Lambda:
https://en.wikipedia.org/wiki/Cosmological_constant
__________________
** “عجب ساعت دید” کی اصطلاح میرے بہت دلپسند شاعر “مجید امجد” کی مشہور نظم “نگاہ بازگشت” سے مُستعار لی گئی ھے

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *