Home / فلکیات / سورج کی سبز شعلہ نما چمک 

سورج کی سبز شعلہ نما چمک 

بہت سے یار لوگ تو اس کو بس ایک قصہ کہانی ہی سمجھتے ہیں، دوسری قسم کے لوگ کہتے ہیں کہ بھائی یہ ہے تو سچ لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے سائینس کو اس کی وجوہات کا علم نہیں ہے۔ اور پھر کچھ مہم جُو حضرات ایسے بھی ہیں جو اس پر سینہ تان تان کے ناز بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے اس مظہرِ فطرت کو خود دیکھا ہوا ہے۔

اس تصویر میں سورج سے نظرآنے والا سبز چمکیلا شعلہ دکھایا گیا ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اس سبز چمکیلے شعلے کا حقیقتاً وجود ہے اور اس کی وجوہات بہت اچھی طرح سے سمجھی جا چُکی ہیں۔

 

سبز چمک کیا ہے؟
جیسے ہی سورج افق سے غائیب ہوتا ہے تو کبھی کبھار اس کی آخر چمک، سورج کے اوپر والے حصے میں ایک بہت ہی خوبصورت سبز رنگ کا شعلہ سا بناتی جس کو سبز فلیش کہتے ہیں۔ یہ سبز رنگت بھی ایسی کہ بقول شخصے:
“اگر زمرُد دیکھ لے تو ہیرا چاٹ کے خود کُشی کرلے”۔

یہ مظہر فطرت عموماً ایسے مقامات سے ہی نظر آتا ہے جہاں اُفق قدرے نیچا اور دور ہو اور یہ عموماً ایک دو سیکنڈ تک رہتا ہے۔ یہی سبز شعلہ طلوع آفتاب کے وقت بھی دیکھا جاسکتا ہے لیکن اس کو دیکھنا اتنا آسان نہیں۔

یہ تصویر اسپین کے جزیرہ کنیری آئیلینڈ کی رصد گاہ سے غروب کے وقت لی گئی ہے جس میں اوپر کی طرف نظر آنے والا خوبصورت سبز رنگ کا شعلہ سا چمکتا ہوا نظر آرہا ہے سورج میں سے کسی قسم کی کوئی سبز روشنی نہیں نکل رہی بلکہ زمین کی فضا کی تہیں بطور منشور کام کرتی ہیں اور سورج کی روشنی کو یوں منعکس کرتی ہیں کہ یہ ایک لمحے کے لئے گہرا سبز شعلہ سا دیتا ہے

 

سبز چمک کیوں ہوتی ہے؟
زمین کی فضا کی تہیں ایک منشور سا بناتی ہیں جس سے نیلی روشنی بکھر کر سارا دن ہمارے لئے ایک نیلگوں، کبودی آسمان کا منظر پیش کرتی ہے۔ غروب کے وقت سورج کی روشنی کا زاویہ ایسا ہوتا ہے کہ سورج کی نیلی روشنی تو بکھر چُکی ہوتی ہے باقی بچنے والی سُرخی مائیل روشنی آسمان احمریں کردیتی ہے۔

اب غروب کے کچھ لمحے بعد سورج کا زاویہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر ماحول ساز گار ہو تو نیلی روشنی جس کا ویو لنگتھ بہت چھوٹا ہوتا ہے وہ تو بکھر جاتی ہے لیکن سبز روشنی جس کا ویو لنگتھ سُرخ روشنی سے کم لیکن نیلی سے زیادہ ہونے کی وجہ سے بکھرنے سے بچ جاتا ہے اور لمحہ بھر کو ایک سبز رنگ کی چمک نظر آتی ہے۔ یہ بعض اوقات سورج کے گرد ایک رنگ بھی بناتی ہے۔

 

یہ کہاں اور کیسے دیکھے جاسکتے ہیں؟
میں نے آج تک باوجود کوشش کے اس کا خود سے مُشاہدہ نہیں کیا۔ لیکن سائینسی ادب میں جو کہا جاتا ہے کہ یہ عموماً ایسی جگہوں پر نظر آتا ہے جہاں اُفق بہت دور ہو اور اس کے راستے میں رکاوٹ نہ ہو جیسے ساحل سمندر پر۔

اس پر یہ ایک معلوماتی وڈیو بھی ہے

https://www.youtube.com/watch?v=sS9KUlrytac

ترجمہ اور تبصرہ: جرار جعفری
_________
حوالہ جات:یہ تحریر اے-پاڈ کی درج ذیل کی پوسٹ پر بُنیاد کی گئی:

https://apod.nasa.gov/apod/ap140604.html
and
https://apod.nasa.gov/apod/ap040321.html

Image Credit & Copyright: Daniel López (El Cielo de Canarias)

Authors & editors: Robert Nemiroff (MTU) & Jerry Bonnell (UMCP)

NASA Official: Phillip Newman Specific rights apply.
NASA Web Privacy Policy and Important Notices
A service of: ASD at NASA / GSFC
& Michigan Tech. U.

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *