Home / اردو ادب / شاعری / سارے رشتے تباہ کر آیا (جون ایلیاء)

سارے رشتے تباہ کر آیا (جون ایلیاء)

سارے رشتے تباہ کر آیا
دل برباد اپنے گھر آیا

آخرش خون تھوکنے سے میاں
بات میں تیری کیا اثر آیا

تھا خبر میں زیاں دل و جاں کا
ہر طرف سے میں بے خبر آیا

اب یہاں ہوش میں کبھی اپنے
نہیں آؤں گا میں اگر آیا

میں رہا عمر بھر جدا خود سے
یاد میں خود کو عمر بھر آیا

وہ جو دل نام کا تھا ایک نفر
آج میں اس سے بھی مکر آیا

مدتوں بعد گھر گیا تھا میں
جاتے ہی میں وہاں سے ڈر آیا

جون ایلیاء

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *