Home / فلکیات / زمین کی فل ڈسک تصاویر لینے والے سیٹلائٹس

زمین کی فل ڈسک تصاویر لینے والے سیٹلائٹس

انڈیا  کا  چندریان۲ مشن چاند کی طرف رواں دواں ہے۔3اگست کو اس نے زمین کی بہت ہی خوبصورت تصاویر سینڈ کی تھی۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ زمین کی پہلی فل ڈسک تصویر11دسمبر 1966 کو ATS-1  سیٹلائٹ نے لی تھی۔  اس سیٹلائٹ کو یہ اعزار بھی حاصل ہے کہ یہ پہلی جیوسٹیشنری سیٹلائٹ تھی۔ پہلی فل ڈسک تصویر درج ذیل ہے۔

اس وقت بھی زمین کے گرد بہت سی سیٹلائٹس ہر وقت زمین کی تصاویر بنا نے میں مصروف رہتی ہیں۔ذیل میں کچھ سیٹلائٹس کی تفصیل موجود ہے جو زمین کی فل ڈسک تصاویر بناتی ہیں۔

 

جاپان کی Himawari-8 سیٹلائٹ:

یہ جاپان کی موسمی سیٹلائٹ ہے جو جیوسٹیشنری اربٹ میں خط استوا کے اوپر موجود رہتی ہے۔ یہ سیٹیلائٹ مشرقی طرف کے ممالک خصوصاً جاپان، ملائیشیا، انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ وغیرہ کی ہائی ریزولیشن تصویر یں(121 میگا پکسل ) ہر دس منٹ کے بعد سینڈ کرتی ہے۔ درج ذیل لنکس سے اس کی تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں اور سیٹلائٹ کے بارے میں مزید پڑھا جا سکتا ہے۔

http://www.jma.go.jp/en/gms/largec.html?area=6&element=1&time=201908151010&mode=UTC&line=0

http://rammb.cira.colostate.edu/ramsdis/online/himawari-8.asp

https://www.data.jma.go.jp/mscweb/data/himawari/index.html

اس سیٹلائٹ کے ساتھ ایک اور سیٹلائٹ  Himawari-9 بھی ہے جو Himawari-8 کی بیک اپ سیٹلائٹ ہے۔

 

امریکہ کی GOES سیٹلائٹس:

اس سریزکی اب تک سترہ سیٹلائٹس لانچ کی گئی ہیں۔ 1975 میں اس سلسلے کی پہلی سیٹلائٹ GOES-1 لانچ کی گئی تھی۔ GOES-16اس سلسلے کی سب سے بہترین سیٹلائٹ قرار پائی ہے ۔ یہ سیٹلائٹ ابھی فلی اپریشنل نہیں ہے مگر اس کا کچھ ڈیٹا ویب پر دستیاب ہے۔ اس لنک سے آپ اس کا ڈیٹا دیکھ سکتے ہیں

https://www.nesdis.noaa.gov/content/goes-16-color-composite-images

اس  GOES سیٹلائٹس کی سریز کے بارے میں مزید پڑھنے کیلئے  وکی پیڈیا کا یہ لنک حاضر ہے

https://en.wikipedia.org/wiki/Geostationary_Operational_Environmental_Satellite

 

ڈسکور(DSCOVR ) سیٹلائٹ:

یہ ایک یونیک سیٹلائٹ ہے کیونکہ یہ زمین کا چکر نہیں لگا رہی۔ یہ زمین سےتقریباً  100 ملین میل دور زمین اور سورج کے درمیانی علاقہ میں موجود ہے جس کو ہم  لیگرانج پوائنٹ1کہتے ہیں۔  یہ سیٹلائٹ چونکہ زمین اور سورج کے درمیان ہے اس لئے ہمیں اس سیٹلائٹ سے موصول ہونے والی تصاویر میں ہمیشہ دن کا وقت ہی نظر آتا ہے۔ لیگرانج پوائنٹ کو سمجھنے کیلئے درج ذیل تصویر دیکھیں۔

ڈسکور کی تصاویر

https://epic.gsfc.nasa.gov/

ڈسکور کے بارے میں مزید پڑھیں

https://en.wikipedia.org/wiki/Deep_Space_Climate_Observatory

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

یورپین Meteosat-10 سیٹلائٹ:

یورپ کی کئی موسمی سیٹلائٹس میں سے ایک  Meteosat-10ہے۔ یہ سیٹلائٹ اول ذکر دونوں سیٹلائٹس کی کاپی کہی جاسکتی ہے۔

اس سیٹلائٹ کی تصاویر اور اس  کے بارے میں مزید پڑھنے کیلئے

https://eumetview.eumetsat.int/static-images/

 

روس کی Elektro-L سریز:

یہ روس کی پانچ سیٹلائٹ سریز ہے جن میں سے تین سیٹلائٹ اس وقت جیو سٹیشنری  اربٹ میں موجود ہیں جبکہ مزید دو 2021  اور 2022 میں لانچ کی جائیں گی۔

زمین کی فل ڈسک تصاویر کیلئے

http://planet.iitp.ru/english/elektro/elektro_data_eng.htm

ان سیٹلائٹس کے بارے میں مزید پڑھنے کیلئے

https://eumetview.eumetsat.int/static-images/

 

اس کے علاوہ چین کا  Feng yun 4A سیٹلائٹ بھی لانچ کر دیا گیا ہے مگر ابھی تک یہ فلی ورکنک نہیں ہے، البتہ پرانا Feng Yun 2 سیٹلائٹ قریباً بیس سال تک زمین کی تصاویر لینے کے بعد ریٹائرڈہو چکی ہے۔

اس بارے میں مزید اس لنک پر

https://spaceflightnow.com/2016/12/11/new-generation-geostationary-weather-satellite-launched-by-china/

 

انڈیا کا INSAT اور کوریا کا COMS سیٹلائٹس بھی اسی طرح کے موسمی سیٹلائٹس ہیں اور زمین کی تصاویر لینے کیلئے بنائے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ بھی کافی سیٹلائٹس ہیں جو فل ڈسک تصاویر روزانہ بنا رہی ہیں۔ ان کی مکمل لسٹ آپ کو یہاں سے مل جائے گی۔

https://goes.gsfc.nasa.gov/text/geonews.html

https://www.wmo-sat.info/oscar/satellites

 

ان تصاویر کو من گھرٹ اور CGI  کہنے والے حضرات سے چند گذارشات

؎            بغیر کسی ریسرج کے ان کو CGI کہنے سے بہتر ہے کہ پہلے ان پر ریسرج کریں ۔ ریسرج کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپ گرونڈ بیس ویدرکو  ان سیٹلائٹس کے ویدر سے ملائیں۔اپنے سر کے اوپر موجود بادلوں کے پیٹرن دیکھیں پھر ان پیٹرنز کو سیٹلائٹس کی تصاویر سے ملا کر دیکھیں ، خاص کر سردیوں میں جہازوں کے گزرنے سے ایک لائن سی بن جاتی ہے جو کافی دیر رہتی ہے۔ ان لائنز کو سیٹلائٹس کی تصاویر سے ملا کر دیکھیں۔

 

؎            اگر آپ کو ان تصاویر میں ستارے وغیرہ نظر نہیں آ رہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ فیک ہیں۔ اگر یہ چیز آپ نے نوٹ کر لی ہے تو باقی لوگ بے وقوف نہیں ہیں کہ یہ تصاویر کمپیوٹر سے بنائیں اور ستارے بنانا بھول جائیں۔ دراصل ان تصاویر کی ماسکنگ کر دی جاتی ہے تا کہ صرف زمین نظر آئے۔ آپ غور کریں تو اکثر تصاویر میں  آپ کو زمین کا کرہ ہوائی بھی نظر نہیں آئے گا۔

 

؎            ان میں سے اکثر سیٹلائٹس ہر دس منٹ کے بعد ڈیٹا اپ ڈیٹ کرتی ہیں۔  چائنا انڈیا سے ،جاپان چائنہ سے،  امریکہ روس اور چائنہ سےاور کوریا امریکہ سے اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود اس سب ڈیٹا کو ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہیں تاکہ سب کے پاس ایک جیسی ہی تصاویر آئیں؟ سوچنے والی بات ہے کہ ایسی کیا مجبوری ہے کہ سب ایک دوسرے کا راز رکھتے ہیں۔

 

؎            زمین کی فل ڈسک تصاویر پچھلے چار پانچ عشروں سے بنائی جا رہی ہیں۔ ہزاروں لوگ وابستہ ہیں ان سے ، لاکھوں ریٹائرڈ ہو گئے۔ کیا مجوری ہے کہ سب چپ ہیں اور اس سازش میں برابر کا شریک ہیں جبکہ دنیا میں مشہور ہونے کا اس سے سنہری موقع اور کوئی نہیں ہو گا کہ ایک پریس کانفرنس میں سب ممالک کے بھید کھول دئیے جائیں ۔

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *