Home / فلکیات / زحل کے باہمی بدل جانے والے چاند

زحل کے باہمی بدل جانے والے چاند

اس تصویر میں زحل کے باسٹھ کے قریب چاندوں میں سے دو کو دکھایا گیا ھے۔ ان میں سے قدرے چھوٹا والا اپیتھیمئیس (تلفظ: ایپی-تھی-می-اس) (Epimetheus) ھے اور ذرا سا بڑا والا جینس (تلفظ: جے-نَسّ) (Janus) ہے۔

یہ دونوں زحل کے چاند آپس میں اپنی جگہیں بدلتے ہیں۔ اپیتھیمئیس اور جینس زخل کے دو نسبتاً چھوٹے چاند ہیں جو دراصل مداروی گردش کے دوران اپنی اپنی جگہیں بدل لیتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ان دونوں چاندوں کے مداروں کے نصف قطر میں فرق ان دونوں چاندوں کے اپنے نصف قطر سے بھی کم ہے یعنی محض پچاس کلومیٹر ھے۔

پہلے تو ان میں سے ایک چاند زحل کے گرد گردش کے دوران دوسرے سے خاصہ آگے ہوتا ہے، لیکن کیونکہ یہ ایک دوسرے کو تجاذبی طور پر کشش کرتے ہیں اس لئے یہ ایک دوسرے کے قریب آتے ہوئے جونہی ایک دوسرے کو کراس کرنے لگتے ہیں تو یہ اپنے اپنے مدار بدل لیتے ہیں یعنی اپیتھیمئیس اب جینس والے مدار میں چلا جاتا ھے اور یونہی جینس اب زحل کے گرد اُس مدار میں گردش کرتا ھے جہاں پہلے اپیتھیمئیس گردش کرتا تھا۔ یہ تقریباً ہر چار سال میں ایک بار ہوتا ھے۔

اس طلسماتی رقص سے قیاس یہ کیا جاتا ھے کہ یہ دونوں چاند کبھی ایک ہی جرم فلکی کا حصہ رہے ہوں گے جو کبھی ٹوٹ کے دو حصوں میں بٹ گیا۔ اس تصویر میں ان دونوں چاندوں کو اپنے مداروں میں زحل کے ایف-رنگ (F-Ring) کے قریب محوِ حرکت دکھایا گیا ھے۔ یہ تصویر اسپیس کرافٹ کیسینی سے ستمبر دو ہزار پانچ میں لی گئی تھی جو اُس وقت زحل کے گرد مدار میں تھی۔

 

وضاحت:
یقین کریں اس نگار خانہء ھست و بُود کہ جسے کائینات کہیں میں مجھے اپنے ہی نظامِ شمسی میں پھیلے طلسمات اتنا زیادہ مُتاثر کرتے ہیں کہ کبھی کبھار مجھے تو ہنسی آتی ہے کہ لوگ اس حُسن اور حیرت کدے کو چھوڑ کر ناجانے کون سے صحراؤں میں گھومتے پھرتے ہیں۔ ان طلسمات اور حیرتوں میں سے ایک اپیتھیمئیس اور جینس کا ازلی تجاذبی رقص بھی ھے۔

تجاذبی مداروی حرکات (Oribital Dynamics) میں ایک مدار کی قسم ہوتی ہے “ہم مدارویت” جس میں دو یا زیادہ اجسام ایک ہی مدار میں حرکت کرتے ہیں۔ یہ دونوں چاند اس قسم کے مداروں کی ایک خاص قسم ہیں جس میں یہ مدار باہم بدل جاتے ہیں۔ پورے نظام شمسی میں اس مظہر کی دوسری کوئی مثال معلوم نہیں ھے۔

ان دونوں چاندوں کے مداروں کا باہمی اوسط فاصلہ پچاس کلومیٹر ھے جو ان دونوں کے اپنے اپنے نصف قطروں سے بھی کم ھے۔ اب اگر آپ کیپلر کے تیسرے مداروی قانون کو یاد رکھیں تو یہ جاننے میں آسانی ہوگی کہ ان میں سے جو زحل کے نسبتاً قریب ہوگا وہ قدرے زیادہ رفتار سے گردش کرے گا یہ فرق یوں ہے کہ اندر والا چاند اپنا مدار تیس سیکنڈ پہلے پورا کرتا ھے جوں جوں اندر والا چاند باہر والے کے قریب آتا ھے ان کی باہمی گریوٹیشنل کشش اندر والے چاند کا مومنٹم بڑھاتی ھے اور باہر والے کا گھٹاتی ہے۔ یہ مومنٹم میں تبدیلی ایسی ھے کہ اب مومنٹم بڑھنے سے اندر والا چاند کھِسک کے باہر والے چاند کے مدار میں جانکلتا ھے اور باہر والا مومنٹم میں کمی کی وجہ سے اندر والے چاند کی جگہہ لے لیتا ھے۔ یہ عمل ہر چار سال میں ایک بار دُہرایا جاتا ھے. میری اطلاع کے مطابق یہ اس سال یعنی 2018 میں ہونا تھا لیکن مجھے یہ یاد نہیں کہ کس مہینے میں یہ واقع ہونا تھا۔

 

ترجمہ اور وضاحت۔
جرار جعفری

حوالہ جات:
_________
ایک زمانہ پہلے انٹرنیٹ اور یوٹیوب پر اس مظہرِ قدرت پر صریحاً غلط وڈیوز ہوا کرتی تھیں اس لئےریسرچ کرتے ہوئے ذرا دھیان رکھئے گا۔

1) https://en.wikipedia.org/wiki/Epimetheus_moon

2) https://en.wikipedia.org/wiki/Janus_moon

3) https://www.quora.com/Does-any-moon-in-our-solar-system-cha…

4) https://www.youtube.com/watch?v=6_Kq1EUkwqc(خاصی بہتر ویڈیو وضاحت)

اس پوسٹ کے بُنیادی حصے کا متن اے-پاڈ کی اس پوسٹ سے لیا گیا ھے:

5) https://www.quora.com/Does-any-moon-in-our-solar-system-cha…

Credit : Cassini Imaging Team, SSI, JPL, ESA, NASA

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *