Home / فلکیات / زحل اور اسکے دائرے

زحل اور اسکے دائرے

زحل پہ ایک دن دس گھنٹوں، تینتیس منٹوں اور اڑتیس سیکنڈوں پر محیط ہوتا ہے۔

سیارہ زحل کے امتیازی دائروں کا ناسا کے کےسینی سپیس کرافٹ نے بہت گہرائی سے مشاہدہ کیا ہے  اور اب ان مشاہدات سے سائنسدان اس عظیم سیارے کی اندرونی ساخت کے جائزے میں مدد لے رہے ہیں اور یہ پہلی دفعہ  ممکن ہو پایا ہے کہ سیارے کی گردش کے بارے میں کوئی معلومات ملی ہیں ۔

ریسرچرز نے  زحل کے دائروں کے اندر پیدا ہونے والی لہروں کے پیٹرن کو اپنا موضوع بنایا۔ یہ لہریں سیارے کی اندرونی ارتعاش کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں ۔ اس ارتعاش کی وجہ سے پیدا ہونے والی لہریں ایک شدید حساس سیسیموگراف  (زلزلہ پیما)کا کام کرتی ہیں۔ زلزلے کی وجہ سےجیسے زمین پر ارتعاش پیدا ہوتا ہے بالکل ایسے ہی زحل بھی اپنے اندرونی سٹرکچر کی فریکونسی کی وجہ سے ارتعاش پیدا کرتا ہے۔اندرونی حصے میں حرارت کا انتقال بالخصوص اس ارتعاش کی وجہ بنتا ہے۔ سیارے کی یہ اندرونی تھرتھراہٹ کسی خاص جگہ پر اتار چڑھاو کو زیادہ کر دیتی ہے جو کہ سیارے سے باہر اس کے گریویٹی کے میدان میں بھی یہی تھرتھراہٹ برپا کئے رکھتی ہے۔

سانتا کروز میں فزکس کے ایک گریجویٹ کرسٹوفر مینکوک نے اس بارے میں بتایا۔

“گریویٹی کے میدان میں اس تھرتھراہٹ کو دائروں کے اندر موجود ذرات بھی محسوس کرتے ہیں۔ دائروں کے محیط کے اندر جہاں تک یہ تھرتھراہٹ گونجتی ہے تو وہاں توانائی نہ صرف پیدا ہوتی ہے بلکہ لہروں میں سفر کرتی ہے”۔

مینکوک کا ریسرچ پیپر سترہ جنوری 2019ء کو آسٹروفزکس جنرل میں شائع ہوا جس میں اس نے زحل کے اندرونی سٹرکچر کے ماڈلز کا دائروں میں پیدا ہونے والی لہروں سے موازنہ کیاہے۔ اس کے ساتھی ریسرچر جوناتھن فورٹنی جو کہ سانتا کروز میں آسٹروفزکس اور آسٹرانومی کے پروفیسر ہیں نے مزید بتایا کہ

” زحل کے دائروں میں زیادہ تر لہریں دائروں کے گرد موجود چاند کے محیط کی گریویٹیشن  کے اثرات ہیں ۔ لیکن دائروں میں کچھ خصوصیات سیارے کی تھرتھراہٹ کی وجہ سے بھی پیدا ہو رہی ہیں اور ہم سیارے کی اندرونی ساخت اور ارتعاش کو سمجھنے کے لئے ان کی مدد لے سکتے ہیں “۔

مینکوک نے زحل کی اندرونی ساخت کے ماڈلز کا ایک سیٹ تیار کیا اور ان سے سیارے کی اندرونی ارتعاش کے فریکونسی سپیکٹرم کا اندازہ لگایا اور پھر حاصل کردہ نتائج کو کے سینی سپیس کرافٹ کی مشاہدہ کردہ زحل کی سی رنگ میں ہونے والی لہروں سے موازنہ کیا۔ اس کی ریسرچ کے بڑے نتائج میں سے ایک زحل کی گردش کے ریٹ کا پتہ چلنا ہے جو کہ حیرت انگیز طور پر اس سے قبل ناممکن تھا۔

بہت بڑا گیسی سیارہ ہونے کی وجہ سے زحل پر کوئی واضح ساخت نہیں ہے کہ جس کو گردش کے دوران ماپا جا سکے۔ زحل اپنے مقناطیسی اور گردشی محور میں بھی انتہائی غیر معمولی ربط رکھتا ہے  جبکہ زمین کی طرح سیارہ مشتری کا مقناطیسی محور گردشی محور کے ساتھ نہیں ہے جس کی وجہ سے سیارے کی گردش کے ساتھ مقناطیسی قطب اردگرد گھومتا رہتا ہے اور خلابازوں کے لئے ریڈیائی لہروں کے سگنل اور روٹیشن ریٹ کو ماپنا ممکن ہو جاتا ہے۔

مینکوک کی ریسرچ میں ماپا گیا روٹیشن ریٹ 10:33:38 کا حاصل ہوا جو کہ پہلے سے ووائجر  اور کےسینی سپیس کرافٹ سے اندازہ لگائی گئی ریڈیو  میٹری سے کئی منٹ تیز آیا۔

لنڈا سینکر کےسینی پروجیکٹ کی سائنسدان کہتی ہیں ۔

” اب ہمیں زحل کے دن کی لمبائی کا پتہ ہے جو کہ ہمارا خیال تھا کبھی پتہ نہیں چل پائے گی۔زحل کے اندر جھانکنے اور اس کے گردونواح کا جائزہ لینے کے لئےدائروں کا مطالعہ کیا جارہا ہے اور اس کے نتائج بہت درست آ رہے ہیں ۔ دائروں کے اندر سیارے سے متعلق سوالوں کے جوابات  موجود ہیں ۔”

زحل کی جانچ کے لئے دائروں پر ریسرچ کا خیال 1982ء میں آیا تھا حتی کہ تب اس کے لئے ضروری مشاہدات کسی بھی طرح ممکن نہیں تھے۔سیلی کون وادی میں ناسا کے ریسرچ سنٹر میں سائنسدان مارک مارلے نے اپنے پی ایچ ڈی کے تھیسز میں 1990ء میں باقاعدہ طور پر یہ خیال پیش کیااور اس کے لئے ضروری اعدادوشمار مہیا کرنے کے ساتھ یہ بھی بتایا  کہ زحل کے دائروں میں خصوصیات کہاں کہاں ممکن ہو سکتی ہیں ۔ اس نے اپنی ریسرچ میں یہ بھی لکھا کہ کےسینی مشن جو کہ ابھی اپنی ابتدائی سٹیج پر تھا ، وہ اس خیال کو جانچنے کے لئے مستقبل میں مشاہدات  فراہم کر سکے گا۔

اور پھر دو دہائیوں بعد کے سینی ڈیٹا دیکھ کر مارک کے پیش کردہ مفروضات میں  اسکی طرف سے بیان کی گئی  زحل کی خصوصیات کنفرم کر دی گئیں ۔

About سحر عندلیب

سحر عندلیب خود اپنی تلاش اور دنیا کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ایک طالب علم ہیں۔ شعبہ تعلیم سے تو وابستہ ہیں مگر سمجھتی ہیں کہ ابھی بھی علم کے سمندر کا ایک قطرہ بھی حاصل نہیں کر سکیں بہت کچھ سیکھنا باقی ہے اس بلاگ پر اور دیگر کئی ویب سائٹس اور فیس بک گروپس میں سحر عندلیب کے مضامین باقاعدگی سے پوسٹ ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *