Home / فلکیات / رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

بعض اوقات یوں لگتا ھے کہ گویا ہمارے سورج کی سطح محوِ رقص ہو۔ مثال کے طور پر 2012 کے وسط میں ناسا کی سورج کے گرد گردش کرتی سولر ڈائینامک آبزرویٹوری (ایک اسپیس کرافٹ کا نام ہے) نے ایک اہم منظر دیکھا جس میں ایک اُبھار کسی مشاق رقاص کی طرح سطح سورج پر قلابازی سی لگا رہا تھا یہ ڈرامائی منظر الٹرا وائولٹ روشنی میں خصوصی کیمروں نے تین گھنٹوں میں قید کیا۔ یہ ایک مقناطیسی لوپ تھا جس نے دھکتے پلازما کا یہ ناچ ممکن بنایا۔ اس نظر آنے والے اُبھار کا سائیز بہت ہی بڑا ھے اس لنک کی وڈیو میں نظر آنے والی قوس نُما خم میں پوری کی پوری زمین سما سکتی ہے۔

اس طرح کے قدرے خاموش اُبھار کوئی ایک ماہ تک رہتا ھے اور اس کا کرونا ماس اجیکشن بننے کا امکان بھی ہوتا ہے جس میں شدید گرم گیس پورے نظام شمسی میں بکھیر دی جاتی ھے، اس قسم کے اُبھار سورج کی سطح پر کیونکر بنتے ہیں یہ ابھی معلوم نہیں یہ ایک ایسا موضوع ہے جو زیر تحقیق ھے۔ 2012 کے برخلاف اس سال سورج کی سطح قدرے پُرسکون ھے جس کی وجہ سے اس طرح کے اُبھار کم ہی بنتے ہیں۔ کیونکہ یہ سورج کے گیارہ سالہ مقناطیسی سائیکل کا وہ مقام ہے جس پر یہ کم ترین ہوتا ھے۔

سورج کی شدید ترین گریوٹی کی قید میں رہتے ہوئے بھی پلازما ہماری نگاہوں کی تشفی کے لئے ایسے محو رقصاں ہونے کا سماں پیدا کرلیتا ھے اسی لئے اس پوسٹ کا ٹائٹل ھے “رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے”.

 

سورج کا گیارہ سالہ مقناطیسی سائیکل
ہمارا سورج ہر گیارہ سال میں ایک مقناطیسی سائیکل میں سے گزرتا ھے جو سورج کے مقناطیسی میدان کے بدلنے سے ممکن ہوتا ھے اس میں جب یہ مقناطیسی میدان بہت طاقتور ہوتا ھے تو بہت بڑے بڑے شعلے اُٹھتے ہیں، اس میں سورج کی سطح پر سیاہ دھبے بھی بہ آسانی دیکھے جاسکتے ہیں اور اس دور میں کرونا ماس ایجیکشن بھی ہوتا ھے جس میں بہت بڑی مقدار میں گرم پلازما نظام شمسی کی کسی ایک سمت چلا جاتا ھے۔

اکثر ان دنوں میں نیوز چینل اس قسم کی سنسنی خیز خبریں بھی دیتے ہیں کہ زمین تباہی سے بال بال بچ گئی کیونکہ سورج سے شدید گرم پلازما زمین سے ٹکرائے بغیر نکل گیا۔ یہ ایسی ہی فضول بات ھے کہ کوئی کہے کہ آج میں مرتے مرتے بچ گیا کیونکہ ایک بڑا ٹرک طوفانی رفتار سے جہاں میں کھڑا تھا وہاں سے کوئی آدھا کلومیٹر کی دوری سے گزر گیا۔ ہاں یہ ٹرک آپ سے ٹکرا سکتا تھا لیکن اس کا کیا امکان ھے؟ اُس امکان سے بھی کم امکان اس بات کا ہوتا ھے کہ کرونا ماس ایجیکشن سے نکلتا ہوا مواد زمین پر آن گرے، اس لئے آپ پریشان نہ ہوں۔

گیارہ سال بعد سورج میں یہ مقناطیسی میدان بہت کمی کے دور میں سےگزرتا ھے جس میں سیاہ دھبے نظر نہیں آتے اور شعلے بھی نہیں لپکتے۔ آج کل سُورج اس دور میں سے گُزر رہا ہے۔

بپچپن میں میری عادت ہوا کرتی تھی کہ میں علی الصبح اُٹھ کے طلوع آفتاب کا منظر دیکھنے اپنے گھر کے پاس کرکٹ کے میدان میں چلا جاتا تھا مجھے بہت اچھی طرح یاد ھے ایک لمبا عرصہ روزانہ میں سورج میں سیاہ دھبے دیکھ کے بہت حیران ہوا کرتا تھا، اخباریں کھنگال ماریں، بڑی ہمت کرکے اپنے ماسٹر صاحب سے پوچھا تو وہ میری شکل یوں دیکھ رہے تھے کہ جیسے میں نے ان کا اُدھار دینا ہو۔ یہ واقعہ مجھے یاد ھے تو میں سورج کے اس سائیکل کے انٹرنیٹ پر جدول دیکھ کہ یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ 1979 کا واقعہ ھے۔

یہاں اس لنک پر آپ یہ ڈیٹا بخوبی دیکھ سکتے ہیں:

https://en.wikipedia.org/wiki/List_of_solar_cycles

 

کرونل ماس اجیکشن
سورج گاہے بگاہے ارب ہا ٹن کا شدید گرم پلازما اُگل دیتا ھے اس پلازما میں شدید طاقتور مقناطیسی میدان بھی پیدا ہوتا ھے جو اگر کہیں زمین کے قرب و جوار سے گُزرے تو تمام مواسلاتی سیٹلائیٹس اور بجلی گھروں کو تباہ کردے اس مواد کی رفتار عموماً اڑھائی سو کلومیٹر فی سیکنڈ سے لیکر تین ہزار کلومیٹر فی سیکینڈ تک ہوتی ھے یہ سورج سے اخراج کے بعد پھیلنے کے عمل سے بھی گزرتے ہیں اور بعضے تو زمین سے سورج تک کے فاصلے کے ایک چوتھائی حصے تک کی لمبائی کے بھی دیکھے گئے ہیں۔

کرونل ماس اجیکشن عموماً تب ہوتا ھے جب سورج اپنے مقناطیسی سائیکل کے مکسیم مقام پر ہوتا ھے۔

ترجمہ اور تبصرہ: جرار جعفری
______________________________________________________________
حوالہ جات:یہ تحریر اے-پاڈ کی درج ذیل کی پوسٹ پر بُنیاد کی گئی:

https://apod.nasa.gov/apod/ap181010.html

Video Credit: NASA, SDO; Processing: Alan Watson via Helioviewer

Authors & editors: Robert Nemiroff (MTU) & Jerry Bonnell (UMCP)
NASA Official: Phillip Newman Specific rights apply.
NASA Web Privacy Policy and Important Notices
A service of: ASD at NASA / GSFC
& Michigan Tech. U.

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *