Home / عمومی / خدمت انسانیت کواپناشعاربنائیں

خدمت انسانیت کواپناشعاربنائیں

شرم وحیاء اور خدمت خلق
?
قرآن مجید حیاء کے متعلق ایک خوبصورت واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس سے مسلمان عورت کو یہ سبق بھی ملتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے گھر سے نکلے؟

حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک عظیم پیغمبر تھے، جو اللہ تعالیٰ سے براہ راست ہم کلام ہوئے۔ ایک مرتبہ سفر میں تھے گرمی کا موسم تھا پاؤں ننگے تھے۔ سفر کی تھکاوٹ اور پیدل چل چل کر پاؤں میں چھالے پڑچکے ہیں، ذرا آرام کرنے کے لئے ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ فاصلے پر ایک کنواں ہے وہاں سے کچھ نوجوان اپنی بکریوں کو پانی پلارہے ہیں اور ان سے کچھ فاصلے پر باحیا دو لڑکیاں کھڑی ہیں۔ جب آپ  نے ان کو دیکھا تو حیرانگی کی انتہا نہ رہی کہ یہ دونوں لڑکیاں اس جنگل میں کیوں کھڑی ہیں اور کس کا انتظار کررہی ہیں؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب وجہ دریافت کی تو پتہ چلا کہ ان کا کوئی بھائی نہیں، باپ بوڑھا ہے وہ اس قابل نہیں کہ چل پھرسکے اور وہ دونوں اپنی بکریوں کو پانی پلانے کے لئے آئی ہیں کہ جب تمام لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلاکر چلے جائیں گے تو آخر میں یہ اپنی بکریوں کو پانی پلائیں گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کی بات سننے کے بعد آگے بڑھے اور خود پانی کنوئیں سے نکالا اور ان کی بکریوں کو پلادیا۔ لڑکیاں جب خلاف معمول جلدی گھر پہنچیں تو باپ نے جلدی آنے کی وجہ پوچھی تو دونوں نے باپ کو پوری حقیقت سے آگاہ کردیا۔ باپ خود بھی پیغمبر تھے فرمایا کہ جاؤ اس نوجوان کو بلاکر لاؤ تاکہ ہم اس کو پورا پورا بدلہ دیں۔ اب ایک لڑکی جب موسیٰ علیہ السلام کو بلانے آئی تو وہ کس طرح آئی ، اس کا انداز کیا تھا۔ قرآن نے اس کے چلنے کا انداز جوکہ شرم و حیا سے لبریز تھا اس طرح بیان کیا ہے:

ترجمہ: ’’پھر آئی ان دونوں میں سے ایک، شرم و حیا سے چلتی ہوئی۔ وہ کہنے لگی کہ میرا باپ آپ کو بلاتا ہے تاکہ وہ بدلہ دے جوآپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے۔‘‘(القصص ؍ ۲۵)

حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلانے آئی۔ شرم و حیا کا دامن نہیں چھوڑا نگاہ نیچے تھی۔بات بھی شرما کر زیادہ کھل کر نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی حیاءاس قدر پسند آئی کہ اس حیاء کو قرآن بناکرحضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کردیا تاکہ پوری امت کی عورتوں کو پتہ چل جائے کہ جب وہ گھروں سے نکلیں تو شرم و حیاء سے عاری لوگوں کی طرح گردن اٹھاکر نہ چلیں بلکہ دھیمی چال سے کہ شرافت اور حیاءان سے واضح نظر آئے۔ جس طرح شعیب علیہ السلام کی بیٹی شرم و حیاء سے چلتی ہوئی آئی

عملی اعتبار سے حیا کے تین شعبے ہیں
(۱) اللہ تعالیٰ سے حیا
(۲) لوگوں سے حیا
(۳) اپنے نفس سے حیا

اللہ تعالیٰ سے حیا کا مطلب یہ ہے کہ احکام الٰہی کو نہ توڑے
لوگوں سے حیا یہ کہ حقوق العباد کو ادا کرے
لوگوں کے سامنے جن باتوں کے اظہار کو محبوب اور برا سمجھا جاتا ہے،اُن کے اظہار سے بچے
اور اپنے نفس سے حیاء یہ ہے کہ نفس کو ہر برے اور قابل مذمت کام سے بچائے

قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ چند آیات اور احادیث کے مطالعہ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اسلام نے شرم و حیاء پر کتنا زیادہ زور دیا ہے اور اس کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اسے ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے

شرم و حیاء ایمانی زیور ہےاپنی زندگی میں ہر قدم ایسے پھونک پھونک کر رکھیں کہ ایمان کے لٹیرے اور عزتوں کے ڈاکو کہیں شرم و حیاء کی یہ قیمتی دولت آپ سے چھین نہ لیں

اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین ثم آمین.

About محمد رضوان

محمد رضوان پیشے کے لحاظ سے ایک پروگرامر ہیں اپنا سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ دین کیلئے بھی ان کی خدمات گراں قدر ہیں۔ محمد رضوان نے قرآن و حدیث کی تعلیم عام کرنے کیلئے ایک نہایت خوبصورت ویب سائٹ بھی بنائی ہے جس کا لنک درج ذیل ہے trueorators.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *