Home / اردو ادب / شاعری / حالتِ حال کے سبب حالتِ حال ہی گئی (جون ایلیا)

حالتِ حال کے سبب حالتِ حال ہی گئی (جون ایلیا)

حالتِ حال کے سبب حالتِ حال ہی گئی
شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی

بعد بھی تیرے جانِ جاں دل میں رہا عجب سماں
یاد رہی تیری یہاں پھر تیری یاد بھی گئی

ایک ہی سانحہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی

اس کے بدن کو دی نمود ہم نے سخن میں اور پھر
اس کے بدن کے واسطے ایک قباہ بھی سی گئی

اس کی امیدِ ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ
عمر گزار دیجیے عمر گزار دی گئی

اس کا وصال کے لئے اپنے کمال کے لئے
حالتِ دل کہ تھی خراب اور خراب ہی گئی

اس کی گلی سے اٹھ کے میں آن پڑا تھا اپنے گھر
ایک گلی کی بات تھی اور گلی گلی گئی

تیرا فراق جانِ جاں عیش تھا کیا میرے لئے؟
یعنی تیرے فراق میں خوب شراب پی گئی

جون ایلیا

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *