Home / اردو ادب / شاعری / تم پوچھو اور میں نا بتاوں ایسے تو حالات نہیں (قتیل شفائی)

تم پوچھو اور میں نا بتاوں ایسے تو حالات نہیں (قتیل شفائی)

تم پوچھو اور میں نا بتاوں ایسے تو حالات نہیں
ایک زرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

کس کو خبر تھی سانولے بادل بن برسے اڑ جائے گے
ساون آیا لیکن اپنی قسمت میں برسات نہیں

ٹوٹ گیا جب دل تو پھر سانسوں کا نغمہ کیا معنی؟
گونج رہی ہے کیوں شہنائی جب کوئی بارات نہیں

میرے غمگیں ہونے پر احباب ہیں حیران قتیل؟
جیسے میں پتھر ہوں میرے سینے میں جزبات نہیں

جناب قتیل شفائی صاحب

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *