Home / فلکیات / بلیک ہول میں چھلانگ لگاتے ہیں

بلیک ہول میں چھلانگ لگاتے ہیں

 

بلیک ہول پر ہمارا جتنا بھی اور جیسا بھی علم ہے سب نظری غور و فکر اور ریاضیاتی ماڈلوں پر مبنی ہے۔ درحقیقت بلیک ہول کی جو تعریف کی جاتی ہے اس کی رو سے ہی ہم بلیک ہول کے اندرون کا مشاہدہ نہیں کر سکتے، بفرضِ محال ہماری بلیک ہول تک مشاہداتی رسائی ہو بھی تو ہم دیکھ نہیں سکتے کہ اندر کیا ہو رہا ہے، تاہم نظریہ اضافیت جو بلیک ہول کے وجود کی پیش گوئی کا ذمہ دار ہے ، اس کے اندر گرنے والے خلا نورد پر گزرنے والی کیفیات پر کچھ روشنی ڈالتا ہے، ذیل میں نظریاتی استخراج کا ایک سادہ بیان دیا جا رہا ہے۔

 

بلیک ہول کی سطح کوئی حقیقی ساخت نہیں ہے بلکہ صرف ریاضیاتی ماڈل ہے، وہاں محض خالی جگہ ہے۔ جب خلا نوورد اس سطح سے گزر کر بلیک ہول کے اندرون کی طرف بڑھتا ہے تو اسے کسی خاص فرق کا پتہ نہیں چلے گا، لیکن اس سطح کی اپنی ایک طبعی بلکہ ڈرامائی بھی اہمیت ہے، ہول کے اندر تجاذب اتنا شدید ہے کہ یہ روشنی کے فوٹون کو بھی پکڑ لیتا ہے باہر نہیں جانے دیتا، مطلب یہ ہوا کہ روشنی اس کے اندر سے باہر نہیں جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سیاہ نظر آتا ہے۔

چونکہ کوئی بھی جسم یا چیز رفتارِ نور سے زیادہ تیز نہیں ہو سکتی، اس لیے جب کوئی جسم ایک مرتبہ اس میں پھنس جاتا ہے یعنی یہ حد عبور کر لیتا ہے تو کبھی باہر فرارنہیں ہو سکتا۔ بلیک ہول کے اندر رونما ہونے والے واقعات بیرونی دنیا کے علم میں کبھی نہیں آتے،  یہی وجہ ہے کہ ہول کی سطح کو وقوعی افق (Event Horizon)کہتے  ہیں ۔ یہ سطح ہول کے اندرون اور بیرون میں ہونے والے واقعات کے مابین حدِ فاصل کا کام کرتی ہے۔ بیرون میں ہونے والے واقعات اندر سے دیکھے جا سکتے ہیں لیکن جو واقعات اس سطح کے اندر کی طرف ہوتے ہیں باہر سے نہیں دیکھے جا سکتے۔ چانچہ جو خلانورد اس حدِ فاصل کے اندر ہول کی جانب موجود ہے بیرونی دنیا کو دیکھ سکتا ہے جبکہ باہر سے کوئی شخص اس خلا نورد کو نہیں دیکھ سکتا۔

 

جوں جوں خلا نورد اندر ہول کی طرف بڑھتا ہے اس پر قوتِ تجاذب بڑھتی چلی جاتی ہے، اس کا ایک اثر جسم کا ظاہری بگاڑ ہے۔ اب اگر خلا نورد پاوں کے بل ہول میں گر رہا ہے تو سر کی نسبت پاوں ہول کے نزدیک ہوں گے۔ اس لیے اسی نسبت پاوں پر زیادہ قوتِ تجاذب عمل کرتی ہے، نتیجہ کے طور پر جسم کھنچتا ہے اور لمبائی میں بڑھ جاتا ہے۔

 

نظریاتی حساب بتاتا ہے کہ بلیک ہول کے مرکز میں تجاذب لا انتہا طور پر بڑھتا ہے۔ تجاذبی میدان اپنا اظہار ایک خمیدہ خط یا مکان و زمان کے بگاڑ کی صورت میں کرتا ہے، اس لیے تجاذبی میدان کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ زمان و مکان کا لپیٹ لا انتہا طور پر بڑھتا ہے۔ ریاضی دان اس خصوصیات کو زمان و مکان  کی یکجائی  یا سینگولرٹی(Singularity)  کہتے ہیں۔ یہی وہ حد یا کنارہ ہے جس سے آگے زمان و مکان کا روایتی تصور ختم ہو جاتا ہے۔

بہت سے طبیعات دانوں کا یقین ہے کہ بلیک ہول کے اندر یہ یکجائی یا سینگولرٹی زمان و مکان کے خاتمے کو ظاہر کرتی ہے  اور اس سے دوچار ہونے والا مادہ معدوم ہو جاتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر خلا نورد کے جسم کے ایٹم تک اس سینگو لرٹی میں معدوم ہو جائیں گے۔

 

اگر بلیک ہول کی کمیت دس ملین سورجوں کے برابر ہے جیسا کہ ہماری کہکشاں ملکی وئے میں پائے جانے والے بلیک ہول کی ہے اور یہ گھومتا نہیں تو خلا نورد کو وقوعی افق سے نیست و نابود کردینے والی سینگولرٹی تک سفر میں تین منٹ لگیں گے، یہ آخری تین منٹ بہت تکلیف دہ ہوں گے، یہاں تک جانے سے بہت پہلے بے چارہ خلا نورد مر چکا ہو گا۔ اس آخری مرحلے میں بھی خلا نورد کسی طرح بھی اس مہلک سینگولرٹی تو دیکھ نہیں سکے گا کیونکہ وہاں سے روشنی باہر کی جانب نہیں آتی۔

اگر زیر بحث بلیک ہول کی کمیت سورج کے برابر ہے تو اس کا نصف قطر تین کلومیٹر ہو گا اور خلا نورد کو وقوعی افق سےسینگولرٹی تک جانے میں محض چند مائیکرو سیکنڈ لگیں گے۔

 

خلانورد کے حوالے کے فریم میں اس تباہی میں جتنا وقت صرف ہوتا ہے بہت تیزی سے گزرتا ہے۔ لیکن ہول میں وقت کی لیپٹ اس نوعیت کی ہے کہ باہر سے دیکھنے پریہ آخری وقت کی حرکت بہت سست نظر آتی ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتاب: آخری تین منٹ

مصنف: پال ڈیوئیس

ترجمہ: ارشد رازی

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *