Home / اردو ادب / شاعری / بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہوگئے (پروین شاکر)

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہوگئے (پروین شاکر)

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہوگئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہوگئے

بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہوگئے

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے

لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس
سورج کی شہہ پہ تنکے بھی بےباک ہوگئے

بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہوگئے

سورج دماغ لوگ بھی ابلاغِ فکر میں
زلفِ شب ِفراق کے پیچاک ہوگئے

جب بھی غریبِ شہر سے کچھ گفتگو ہوئی
لہجے ہوائے شام کے نمناک ہوگئے

پروین شاکر

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *