Home / اردو ادب / شاعری / اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا (جون ایلیا)

اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا (جون ایلیا)

اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا
اُس جسم کی میں جاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا

تُو آج میرے گھر میں جو مہماں ہے، عید ہے
تُو گھر کا میزبان نہ ہوا، کچھ نہیں ہوا

کھولی تو ہے زبان مگر اس کی کیا بساط
میں زہر کی دکاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا

کیا ایک کاروبار تھا وہ ربطِ جسم و جاں
کوئی بھی رائیگاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا

کتنا جلا ہوا ہوں بس اب کیا بتلاؤں میں
عالم دھواں دھواں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا

دیکھا تھا جب کہ پہلے پہل اُس نے آئینہ
اُس وقت میں وہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا

وہ اک جمال جلوہ فشاں ہے زمیں زمیں
میں تا بہ آسماں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا

میں نے بس اک نگاہ میں طے کر لیا تجھے
تُو رنگِ بے کراں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا

گم ہو کہ جان تُو میری آغوشِ ذات میں
بے نام و بے نشاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا

ہر کوئی درمیاںہے اے ماجرہ فروش
میں اپنے درمیاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا

جون ایلیا

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *