Home / فلکیات / این-جی-سی 3256 کا تصادم

این-جی-سی 3256 کا تصادم

کائینات میں ایک اندازے کے مطابق ایک سو بلین کہکشائیں موجود ہیں، اتنی بڑی مقدار کا مطلب ہے کہ یہ آپس میں ایک دوسرے سے جاٹکراتی بھی ہیں۔ ہماری کہکشاں کے ارد گرد دو کہکشائیں کبیر و صغیر مجیلینک کلاؤڈ
Large and small Magellanic Cloud
اس وقت بھی محو گردش ہیں جو بغیر دوربین کے بھی دیکھی جاسکتی ہیں اس کے علاوہ کم و بیش 50 اور چھوٹی کہکشائیں ملکی وے کے گرد گردش میں ہیں۔ اور ایک تو اس وقت ملکی وے کے ساتھ ٹکرانے کے مرحلے میں ھے اس کا نام
“Sagittarius Dwarf Spheroidal Galaxy”
ھے اور ایک اندازے کے مطابق ملکے وے اس کو اپنے اندر جذب کررہی ہے۔

کائینات میں کہکشاؤں کے ٹکراؤ سے کہکشائیں مُسلسل ایک تبدیلی کے عمل سے گزرتی رہتی ہیں۔ موجودہ دور میں کہکشاؤں کے نام انگریزی حروف “NGC” سے شروع ہوتے ہیں جس کا مطلب “New General Catalog” ہوتا ھے۔

اس تصویر میں اس کہکشاں (این-جی-سی 3256) کا غیر معمولی روشن مرکزی حصہ، گھومتی گرد کی تہیں اور دور تک پھیلی ٹائیڈل لہریں این-جی-سی 3256 کی ایک عظیم الشان کائیناتی تصادم سے وجود میں آنے کی کہانی بیان کررہی ہے۔ ھبل دوربین سے لی گئی اس تصویر میں 500 ملین سال قبل دو کہکشاؤں کا باہمی تصادم پیش کیا گیا ھے جو لگ بھگ 100 ہزار نوری سال پر پھیلا ہوا ھے۔

جب کبھی دو کہکشائیں باہم ٹکراتی ہیں تو ان کے انفرادی ستارے شاذ و نادر ہی آپس میں ٹکراتے ہیں، لیکن بہت بڑے بڑے مالکیولر گیسوں اور گردو غبار کے بادل ایک دوسرے کے ساتھ ضرور ٹکراتے ہیں جس سے خوبصورت ترین ستارہ سازی کی فیکٹریاں کھل جاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس تصادم کے دوران ٹکرانے والی دونوں کہکشاؤں کا ماس ایک جیسا ہی تھا۔ اس تصویر میں اب کہکشاؤں کی اپنی انفرادی ڈسکس (discs) بالکُل نظر نہیں آرہی ہیں اور دونوں کہکشاؤں کے مراکز اب گرد و غبار سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ چند سو ملین سالوں بعد امکان یہی ہے کہ یہ مراکز بھی بالآخر باہم مدغم ہوجائیں گے اور این-جی-سی 3256 ایک بہت بڑی بیضوی کہکشاں کی شکل اختیار کرلے گی۔

یاد رہے کائینات میں سب سے بڑی کہکشائیں عموماً بیضوی کہکشائیں ہوتی ہیں جن میں عموماً نئے ستارے بننے کا عمل تھم چُکا ہوتا ھے جس سے عموماً ان کی عمر کا اندازہ لگایا جاتا ھے۔ بیضوی کہکشائیں سپرائیرل کہکشاؤں کے تصادم اور لاکھوں کروڑوں سال پر پھیلے حسین ترین ثقلی رقص کے اختمام پر وجود میں آتی ہیں۔

این-جی-سی 3256 ہم سے کوئی 100 ملین نوری سال کی دوری پر ھے اس تصویر کے پس منظر میں بہت ساری مزید دور دراز کی کہکشائیں ہیں اور چمکتے ہوئے اجسام ہماری کہکشاں کے ستارے ہیں۔

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *