Home / اردو ادب / شاعری / اگر چاہو تو آنا کچھ نہیں دشوار ، آ نکلو (جون ایلیا)

اگر چاہو تو آنا کچھ نہیں دشوار ، آ نکلو (جون ایلیا)

اگر چاہو تو آنا کچھ نہیں دشوار ، آ نکلو
شروعِ شب کی محفل ہے مری سرکار ! آ نکلو

تمہیں معلوم ہے ہم تو نہ آنے کے ، نہ جانے کے
تڑپتا ہے تمہیں جی دیکھنے کو یار ، آ نکلو

بھروسہ ہی نہیں تم کو کسی پر اور یہاں سب ہیں
تمہارے ساتھ آنے کے لئے تیار ، آ نکلو

خرابے میں ، سرِ شامِ تمنا ، اے شہِ خوباں !
لگا خانہ خرابوں کا ہے اک دربار ، آ نکلو

جو آنکھیں ہو گئیں محروم راتوں میں بھی خوابوں سے
ہیں دن میں بھی وہ خوابوں ہی کی جانبدار ، آ نکلو

تمہاری نرگسِ بیمار ہی کے آسرے پر ہیں
تمہاری نرگسِ بیمار کے بیمار ، آ نکلو

ہماری کیا خریداری کہ یکسر تن فگاری ہیں
زلیخاوار کیا آؤ گے ، شیریں وار ، آ نکلو

تمہیں ہم سے مِلے گا کیا مگر ہم پھر تمہارے ہیں
ہماری قدر جانو اور یونہی بیکار ، آ نکلو

اگر پوشیدہ رہنا مخبروں سے ہے تو پھر یارو !
ہماری مصلحت مانو ، سرِ بازار ، آ نکلو

جون ایلیا

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *