Home / اردو ادب / شاعری / اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں (جون ایلیا)

اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں (جون ایلیا)

اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں
سب کے دل سے اُتر گیا ہوں میں

کیسے اپنی ہنسی کو ضبط کروں
سُن رہا ہوں کہ گھر گیا ہوں میں

کیا بتاؤں کہ مر نہیں پاتا
جیتے جی جب سے مر گیا ہوں میں

اب ہے اپنا سامنا درپیش
ہر کسی سے گزر گیا ہوں میں

وہی ناز و ادا ، وہی غمزے
سر بہ سر آپ پر گیا ہوں میں

عجب الزام ہوں زمانے کا
کہ یہاں سب کے سر گیا ہوں میں

کبھی خود تک پہنچ نہیں پایا
جب کہ واں، عمر بھر گیا ہوں میں

تم سے جاناں ملاہوں جس دن سے
بے طرح خود سے ڈر گیا ہوں میں

کوئے جاناں میں سوگ برپا ہے
کہ اچانک سدھر گیا ہوں میں

جون ایلیا

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *