Home / اردو ادب / شاعری / اِک موجہءصہبائے جُنوں تیز بہت ہے​

اِک موجہءصہبائے جُنوں تیز بہت ہے​

اِک موجہءصہبائے جُنوں تیز بہت ہے​

اِک سانس کا شیشہ ہے کہ لبریز بہت ہے​

کُچھ دِل کا لہو پی کے بھی فصلیں ہُوئیں شاداب​
کُچھ یوں بھی زمیں گاؤں کی زرخیز بہت ہے

پلکوں پہ چراغوں کو سنبھالے ہوئے رکھنا​
اِس ہِجر کے موسم کی ہوا تیز بہت ہے​

بولے تو سہی ، جھوٹ ہی بولے وہ بَلا سے​
ظالم کا لب و لہجہ دل آویز بہت ہے​

کیا اُس کے خدوخال کُھلیں اپنی غزل میں​
وہ شہر کے لوگوں میں کم آمیز بہت ہے​

محسؔن اُسے ملنا ہے تو دُکھنے دو یہ آنکھیں​
کچھ اور بھی جاگو کہ وہ ’’شب خیز‘‘ بہت ہے

محسن نقوی

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *