Home / مستقل سلسلے / انگلش سے کیا رنجش / انگلش سے کیا رنجش ۔ پہلی قسط

انگلش سے کیا رنجش ۔ پہلی قسط

ہمارے ہاں اکثر طلباء ریاضی میں کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ انگلش میں بھی کمزور ہوتے ہیں۔ وہ اسے بےحد مشکل سمجھ کر اس سے خوف کھاتے ہیں۔ مسئلہ ریاضی کی طرح وہی ہے کہ ہمارا سسٹم طلباء کی صلاحیت سے عاری تعلیم دیتا ہے جس کو ہم تعلیم کہہ بھی نہیں سکتے کہ وہ محض کاغذوں کی ڈگریاں ہی ہوتی ہیں۔ جب ایک طالب علم کی کسی بھی علم میں بنیاد ہی اچھی نہ ہو تو ہر آنے والے وقت میں وہ چیز اس کے لے مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جاتی ہے اور یہی حال ہمارے ہاں اکثر طلباء کا ہوتا ہے۔

انگلش ایک بین الاقوامی زبان ہے اور اس کا سیکھنا نہایت ضروری ہے۔ کم از کم بنیادی سطح تک کہ کچھ نہ کچھ پڑھنا لکھنا تو آ جائے۔ کوئی بھی زبان سیکھنے کے لیے دو چیزیں اہم ہوتی ہیں۔ ایک اس زبان کا ماحول اور دوسرا اس زبان کے گریمر اور کمپوزیشن کے اصول۔ اگر کسی زبان کا ماحول میسر آ جائے تو پھر بغیر کسی اضافی کوشش یا محنت کے انسان اسے سیکھ جاتا ہے۔ جیسا کہ کوئی بھی بچہ جب بولنا شروع کرتا ہے تو وہ جس ماحول میں ہوتا ہے اس ماحول کی زبان وہ بغیر پڑھائی کے ہی سیکھنے لگتا ہے۔ یعنی ماحول سے کوئی زبان سیکھنا سب سے آسان طریقہ ہے۔ اب جن لوگوں کو کوئی زبان سیکھنے کے لیے اس زبان کا ماحول میسر آ جائے وہ تو بہت آسانی سے سیکھ جاتے ہیں لیکن جن لوگوں کو ماحول میسر نہ ہو وہ کوئی زبان کیسے سیکھیں؟

اگر کوئی زبان ماحول کے بغیر سیکھنی ہو تو اس کے لیے سب سے اچھا طریقہ اس زبان کی گریمر اینڈ کمپوزیشن کے اصولوں کے تحت لگاتار مشق ہے۔ یاد رکھیں زبان ایک نہایت وسیع سمندر کی طرح ہوتی ہے جسے اصولوں میں قید کرنا اگرچہ ممکن نہیں ہوتا تاہم پھر بھی یہ اصول بنائے جاتے ہیں تا کہ وہ زبان سیکھنے میں مدد فراہم کر سکیں۔ اب ان اصولوں کا مقصد چونکہ آسانی پیدا کرنا ہے لہٰذا ان اصولوں کو سادہ اور آسان ہونا چاہئیے۔

“انگلش سے کیا رنجش” بھی ایک ایسا ہی سلسلہ ہے جس میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ کچھ ایسے فارمولے بنا دیے جائیں جو کہ کم سے کم وقت میں طلباء کو بنیادی انگلش سکھا دیں تا کہ وہ خود سے جملے بنا سکیں اور خود سے لکھ اور پڑھ سکیں۔ یہاں آپ کو بہت سی نئی اور غیر روایتی چیزیں نظر آئیں گی جو عموماً کتابوں میں نہیں ملتیں۔ لیکن میرا نکتہءِ نظر یہ ہے کہ جو چیز سیکھنے میں آسانی پیدا کرے اپنا لینی چاہئیے چاہے ہو روایتی ہو یا غیر روایتی۔

اب یہ کوشش کتنی کامیاب ہے یہ تو مطالعہ کرنے والے ہی بتا سکتے ہیں۔ ایک بار پھر یہ بات ذہن نشین کریں کہ زبان کو مکمل طور پر اصولوں میں قید نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ان اسباق میں جو بھی اصول مقرر کیے جائیں گے وہ بھی عمومی ہوں گے۔ مطلب یہ کہ کوئی چیز ان اصولوں سے باہر بھی ہو سکتی ہے لیکن عام طور پر بنیادی زبان سیکھنے کے لیے یہ اصول کارگر رہتے ہیں۔ آخر میں یہ بات کہ اس طرح کے اصول قابلِ تجدید ہوتے ہیں، وقت کے ساتھ ان میں کچھ خامیاں بھی نکل سکتی ہیں اور ان کو بہتر سے بہتر بھی بنایا جا سکتا ہے۔ جہاں کہیں آپ کو کمی محسوس ہو یا کوئی بہتری کی تجویز ہو تو بلاجھجھک اپنی رائے کا اظہار فرمائیں۔ آپ سب کی رائے محترم ہے۔ شکریہ

اگلی قسط سے ان شاءاللہ اسباق کا آغاز ہو جائے گا۔

نوٹ: ان اسباق کو کم وقت میں بنیادی انگلش سیکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

تحریر: انعام الحق

About انعام الحق

انعام الحق صاحب کا تعلق پاکستان کے مشہور صنعتی شہر فیصل آباد سے ہے۔ آپ درس و تدریس اور تحقیق کے شعبہ سے وابسطہ ہیں۔ ریاضی اور فزکس سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *