Home / فلکیات / انڈرمیڈا کہکشاں

انڈرمیڈا کہکشاں

ہماری کہکشاں ملکی-وے سے قریب ترین اور ایک بہت بڑی کہکشاں بھلا کون سی ہے؟ جی اس کا نام ہے انڈرومیڈا۔

در حقیقت خیال یہ کیا جاتا ہے کہ ہماری اپنی کہکشاں بھی انڈرمیڈا سے ملتی جُلتی ہے۔ ان دونوں کہکشاؤں کا لوکل گروپ پر پورا پورا غلبہ ہے۔ انڈرمیڈا کی یہ مدہم سی پھیلی ہوئی روشنی دراصل اس کے ارب ہا ستاروں کی روشنی ہے۔ اس تصویر میں نظر آنے والے روشن ترین ستارے جو انڈرمیڈا کے ارد گرد ہیں وہ اصل میں ہماری اپنی کہکشاں کے ستارے ہیں جو پس منظر میں نظر آنے والی کہکشاں کے سامنے دوربین میں آگئے ہیں۔

انڈرمیڈا کو اکثر ایم-31 بھی کہا جاتا ہے وہ اس لئے کہ یہ چارلس میسئے کی دھدنلے فلکی اجسام کی فہرست میں اکتیسویں نمبر پر ہے، یہ ہماری قریبی بڑی کہکشاں تو ہے لیکن یہ ہم سے اتنا دور ہے کہ اس کی روشنی ہم تک دو ملین سال میں پہنچتی ہے۔ یہ کہکشاں خالی آنکھ سے دیکھی جاسکتی لیکن یہ ڈجیٹل تصویر نسبتاً چھوٹی دوربین سے لئے گئے بیس فریموں کو جوڑ کے بنائی گئی ہے۔ اینڈرومیڈا کے متعلق ہم بہت کچھ نہیں جانتے بشمول اس کے کہ اس کو ملکی وے سے ٹکرانے میں ابھی کتنا عرصہ اور لگے گا۔

 

انڈرومیڈا تاریخ کے آئینے میں
تاریخ میں سب سے پہلے انڈرومیڈا کا ذکر ایک ایرانی ماہر فلکیات عبدالرحمٰن الصوفی کی کُتب میں ملتا ہے ان صاحب نے نہ صرف انڈرومیڈا کا مُشاہدہ کیا بلکہ انہوں نے لارج میجیلانک کلاؤڈ کا بھی تذکرہ کیا۔ لارج میجیلانک کلاؤڈ ایک چھوٹی سی کہکشاں ہے جو ملکی وے کے گرد گردش کرتی ہے اور صرف جنوبی کرے سے آسانی سے نظر آتی ہے لیکن یہ کہکشاں تھوڑی محنت سے یمن وغیرہ سے دیکھی جاسکتی ہے الصوفی نے بھی یمن میں ہی اس کا مُشاہدہ کیا تھا۔ یوں کہکشاؤں کا مُشاہدہ کرنے والے اولین اشخاص میں ان کا ذکر ہوتا ہے۔ الصوفی نے ان کو دُخانی دھندلے بادل کہا، کہ دور سے یہ ایسے ہی لگتے ہیں۔

میرے پاس بچپن میں ایک انگلش کی بہت پُرانی فلکیات کی کتاب ہوا کرتی تھی جس میں انڈرومیڈا کو انڈرومیڈا نیبیولا کہا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ بہت عرصہ تک انڈرومیڈا کو ہماری ملکی وے کے اندر ہی ایک نیبیولا سمجھا جاتا تھا۔

 

انڈرمیڈا کہکشاں کی جدید فلکیات میں تاریخی حیثیت
سن اُنیس سو بیس میں فلکیات کے ایک بہت ہی بڑے اور اہم موضوع پر ایک بہت بڑا مُناظرہ ہوا (جی ہاں کبھی سائینس میں بھی مناظرے ہوا کرتے تھے)۔ اس کو سائینس کی تاریخ میں”بحث عظیم”
(The great debate)
کہا جاتا ہے۔ یہ بحث ہارلو شیپلی اور ہیبر کرٹس کے بیچ ہوئی اور موضوع تھا:

کیا ہماری کہکشاں ملکی وے ہی ساری کائینات ہے یا اس کے باہر بھی کچھ ہے

شیپلی صاحب کا کہنا تھا کہ یہ دور دراز کے دھندلے سے روئی کے گالوں جیسے اجسام جیسے انڈرمیڈا دراصل چھوٹے چھوٹے سے اجسام ہیں اور ہماری کہکشاں کے ہی بیچ میں ہیں، جبکہ کرٹس بھائی صاحب کا کہنا تھا کہ نہیں یہ نہایت دور دراز اپنی ذات میں ایک الگ کہکشاں ہیں جن کو اُس زمانے میں “جزیرہ نُما کائینات”
(Island Universes)
کہا جاتا تھا۔

یہ بحث ہوسٹل کی راہداریوں میں رات تین بجے لمبی لمبی تاش کی بازیاں لگا کے ہونے والی بحثوں کی ہی طرح بے نتیجہ نکلی لیکن 1925 میں ایڈون ھبل نے انڈرومیڈا میں موجود ایک خاص قسم کے ستارے کا فاصلہ جب ڈیڑھ ملین نوری سال نکالا تو یک دم انسانی شعور نے کائینات کی بے پناہ وسعتوں کا ادراک حاصل کیا اور ہمیں احساس ہوا کہ ہمارا نظام شمسی تو درکنار ہماری کہکشاں بھی عام سی ایک کہکشاں ہے اور یہ کہ کائینات کہکشاؤں سے بھری پڑی ہے۔ پھر کیا تھا نئی بڑی بڑی دوربینیں بنی نت نئی کہکشائیں دریافت ہوئی اور یوں کائینات نے یک خُلوی زندگی سے بتدریج ارتقاء کی منازل طے کرتے ہوئے کائینات کی تفہیم کا ایک اہم ترین قدم اُٹھایا اور یہ معلوم کرلیا کہ کائینات بہت بڑی ہے۔

وسعتِ کائینات کی اس تفہیم میں انڈرومیڈا نے سب سے اہم کردار ادا کیا۔

ترجمہ اور تبصرہ: جرار جعفری
____________
حوالہ جات:یہ تحریر اے-پاڈ کی درج ذیل کی پوسٹ پر بُنیاد کی گئی:

https://apod.nasa.gov/apod/ap181217.html

Image Credit & Copyright: Robert Gendler

Image Credit & Copyright: Daniel López (El Cielo de Canarias)

Authors & editors: Robert Nemiroff (MTU) & Jerry Bonnell (UMCP)
NASA Official: Phillip Newman Specific rights apply.
NASA Web Privacy Policy and Important Notices
A service of: ASD at NASA / GSFC
& Michigan Tech. U.

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *