Home / تاریخ / ابو الحسن علی ابن نافی یا زریاب تاریخ کے صفحات میں گمشدہ ایک شخصیت

ابو الحسن علی ابن نافی یا زریاب تاریخ کے صفحات میں گمشدہ ایک شخصیت

ابو الحسن علی ابن نافی یا زریاب ایک ایرانی بحر العلوم تھا وہ ایک شاعر ، بہت بڑا موسیقار ، آرائش گر، فیشن ڈیزائنر ، مشہور شخصیت ، رحجان ساز ، حکومتی مشیر ، فلک شناس ، ماہر نباتات ، جغرافیہ دان اور پہلے پہل ایک سیاہ فام غلام تھا

لفظ زریاب کا مطلب سیاہ پرندہ ہے ۔ زریاب ایک فصیح و بلیغ سیاہ فام تھا جس وجہ سے اسکا یہ نام مشہور ہوا ۔ زریاب بغداد میں پیدا ہوا اور بچپن سے ہی موسیقی کی تعلیم پانے لگا ۔ بغداد مسلم دنیا میں موسیقی کا مرکز تھا ۔ 813ء تک زریاب بغداد میں رہا اندلس کے حکمران الحاکم نے 822ء میں زریاب کو اپنے پاس بلایا وہاں پہنچ کر زریاب کو پتہ چلا کہ الحاکم کی وفات ہو چکی تھی لیکن شہزادے عبدالرحمن دوم نے اپنے باپ کی دعوت کو برقرار رکھا ۔ زریاب قرطبہ میں رہائش پذیر ہوا اور ماہانہ دو سو سونے کے دینار اسکا وظیفہ مقرر کیا گیا ۔ وہ خوراک ، فیشن ، موسیقی اور گلوگاری کا شاہی سفیر مقرر ہوا اس نے ان تمام فنون میں اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور موسیقی کا ایک ادارہ قائم کیا جس میں زریاب کے بعد بھی دو نسلوں کو فن سکھایا جاتا رہا ۔ زیادہ تر لوگ زریاب کے نام سے واقف نہیں ہیں مگر اس کی تخلیق کردہ چیزیں آج تک نمایاں ہیں ۔ اس نے ایک وقت میں تین کھانوں کا رواج قائم کیا (سوپ ، کھانا ، سویٹ ڈش) اس نے کھانے والی بہت سی سبزیاں اور پھل دریافت کئے اور اسنے مشروبات کے لئے شیشے کے گلاسوں کا رواج شروع کیا اس سے پہلے کھانے کے لئے دھات کے بڑے ٹرے استعمال ہوتے تھے جبکہ زیادہ تر عام میز پر ہی کھانا چن دیا جاتا تھا ۔ اس نے میز پوش کا استعمال عام کروایا ۔ زریاب کی متعارف کردہ سماجی تبدیلیوں کی لسٹ بہت لمبی ہے ۔ اس نے مردوں میں چھوٹے بال اور شیونگ کا رواج ڈالا ۔ اسکی قربطہ آمد سے قبل تمام لوگ بڑے اور شانوں پر بے ترتیب لٹکتے ہوئے بالوں کے ساتھ سرکاری محفلوں اور دربار میں بھی نظر آتے تھے ۔ اس نے موسم اور موقع محل کے مطابق لباس کی تبدیلی کا رواج متعارف کروایا اس نے صبح ، دوپہر اور شام کے لئے الگ کپڑے پہننے کا رواج عام کیا ۔ اس نے پہلا ٹوتھ پیسٹ ایجاد کیا جس کا ذائقہ اور خوشبو لاجواب تھی اس نے ڈیوڈرنٹ بھی ایجاد کئے جن کا استعمال عام ہونے لگا ۔ پہلے شاہی خاندان کے لوگ اپنے بالوں کو عرق گلاب سے دھوتے تھے مگر زریاب نے بالوں کو نرم اور خوبصورت کرنے کے لئے نمک اور خوشبوئی تیل سے دھونے کا رواج ڈالا ۔ موسیقی اور سماجی خدامات مں زریاب کا کوئی ثانی نہیں اس کے آٹھ بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں وہ تمام بڑے موسیقار بنے اور اس کے فن کو تمام یورپ میں پھیلایا ۔

About سحر عندلیب

سحر عندلیب خود اپنی تلاش اور دنیا کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ایک طالب علم ہیں۔ شعبہ تعلیم سے تو وابستہ ہیں مگر سمجھتی ہیں کہ ابھی بھی علم کے سمندر کا ایک قطرہ بھی حاصل نہیں کر سکیں بہت کچھ سیکھنا باقی ہے اس بلاگ پر اور دیگر کئی ویب سائٹس اور فیس بک گروپس میں سحر عندلیب کے مضامین باقاعدگی سے پوسٹ ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *