Home / اردو ادب / نثر / آگ کا دریا (قرة العین حیدر)

آگ کا دریا (قرة العین حیدر)

زمانہِ طالب علمی میں جب یہ ناول پڑھا تھا تب سے اب تک یادداشت میں بہت زبردست ناول کا تاثر بیٹھا تھا ۔لیکن اب پختہ عمر میں اسے دوبارہ پڑھنے سے پہلے مختلف دوستوں سے جو خود میری طرح ادیب تو نہیں لیکن جنھیں میری طرح کتابیں پڑھنے کا چسکا ہے ، انکی رائے پوچھی تو دوستوں نے بتایا کہ شروع کیا لیکن مکمل نہیں پڑھا،دلچسپی قائم نہ رکھ سکے ۔

ایک عام قاری کی حیثیت سے جن مشکلات کا سامنا رہا بیان کرنا چاہتا ہوں
نمبر ۱= پہلے ایک سو صفحات پڑھنا واقعی جان جوکھوں کا کام ہے۔مشکل ترین ھندی کے الفاظ اور تصورات کی بھر مار ہے ۔ ایک فقرے سے دوسرے فقرے تک پہنچنے کے لئے لغت اور گوگل کی مدد لینے کے باوجود بات نہیں بنتی ۔ جس کی وجہ میرے خیال میں کتاب کے آخر میں “source of illustrations” نہ ہونا ہے۔جس کی وجہ سے ہماری نسل جس نے انڈین ہسٹری ذاتی دلچسپی سے پڑھ رکھی ہے کچھ نہ کچھ سمجھ لے وگرنہ آجکل کی نسل کے لئے شروع کے سو صفحات پڑھنا سمجھنا اور ناول میں دلچسپی قائم رکھنا ناممکن ہے
نمر 2=انہی شروع کے صفحات میں جن جگہوں میں کہانی گھوم رہی ہے ان جگہوں کے متروک شدہ ناموں کی وجہ سے عام قاری اپنا ذہنی تعلق نہیں بنا پاتا۔اس کی وجہ کتاب میں اس وقت کا نقشہ نہ ہونا ہے
نمبر 3=سب سے بڑا مسئلہ عام قاری کے لئے یہ ہے کہ چندر گپتا کے حملہ آور ہونے کے بیان تک قاری کا زہن ہوا میں معلق رہتا ہے کہ تمام کردار کس دور میں پھر رہے ہیں ۔ دور واضح ہونے تک “جنگ عظیم “ کی وضاحت بھی نہیں ہوتی سو صفحات کے بعد جب پتہ چلتا ہے کہ ہم تین سو قبل مسیح میں گھوم رہے ہیں تو پھر ناول کو دوبارہ شروع سے پڑھنا پڑھتا ہے

اس کے بعد اگلے دو ڈھائی سو صفحات میں ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد اور پھر انگریزوں کا قبضہ جیسے طویل دور کو سمیٹنے کی کوشش کی گئی ۔ اس عرصے میں بھی قاری کا ذہن الجھا رہتا ہے ۔

اگر یہ ناول چھ سو کی بجائے آٹھ یا نو سو صفحات پر پھیلا ہوتا تو شاید ناول میں دلچسپی اور تسلسل کا عنصر ذیادہ ہوتا ۔جو ایک قاری کو ساتھ چلنے پر مجبور کرتاہو۔ بہرحال یہ ایک شاندار ناول ہے اور قرة العین حیدرکو صدیوں تک ادب کی دنیا میں زندہ رکھے گا۔

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *